جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی! ڈر ہے کہ نیا پاکستان والے کہیں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر نہ نکال دیں،فیصلے پر عمران خان شدید تنقید کی زد میں

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

سکھر(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے وزیر اعظم عمران خان پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بینظیر بھٹو کا نام نکالنا چاہتے ہو، اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے، مجھے ڈر ہے کہ نیا پاکستان والے کہیں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر نہ نکال دیں۔

اگر آپ ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں تو صدام حسین کی طرح وردی پہن کر صدر بن جائیں، عمران خان تم اپناکام کرو ہم اپنا کام کریں گے،نہیں مانتا اس وقت پاکستان میں کوئی جمہوریت ہے، کسی کی خواہش پر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ اتوار کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بینظیر بھٹو کا نام نکالنا چاہتے ہو، اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کے لیے نہیں ملک کیلئے قربانی دی، عمران خان تم بینظیر کا نام ہٹانا چاہتے ہو مگر لوگوں کے دلوں سے کیسے نام ہٹاؤ گے، جو تاریخ خون سے لکھی جائے اس کا نام پانی سے نہیں مٹایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں تو صدام حسین کی طرح وردی پہن کر صدر بن جائیں، عمران خان تم اپناکام کرو ہم اپنا کام کریں گے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے آؤ بات کرو مہنگائی ہے، لوڈشیڈنگ ہے اور عمران خان کہتے ہیں میں نہیں کروں گا، غلط پالیسیوں کے باعث مہنگائی کا عذاب ہمارے گلے میں ہے، حکومت بتائے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ایک لاکھ 70 ہزار خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دیا۔

سید خورشید شاہ نے دعویٰ کیا کہ 2008 سے 2013 تک ماڈل اور بہترین حکومت تھی، اعداد و شمار کے ساتھ بات کرتا ہوں، کوئی مائی کا لعل آئے چیلنج کرے، میں جواب دوں گا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنا کر سرحدوں کی حفاظت کا اعلان کیا اور شہید بے نظیر بھٹو نے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی، کوئی دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔خورشید شاہ نے کہا کہ میں نہیں مانتا اس وقت پاکستان میں کوئی جمہوریت ہے، کسی کی خواہش پر جمہوریت نہیں چل سکتی۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…