اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

حوثی ملیشیا نے ہجرت کرنیوالے افریقی جنگجووں کوبھرتی کرنا شروع کردیا

datetime 22  مارچ‬‮  2019 |

صنعاء(این این آئی)یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنیوالی حوثی ملیشیا جنگ کے باعث غیرمعمولی افرادی قلت کا شکار ہے اورافرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے اب ملک میں موجود افریقی شہریوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حوثی ملیشیا نے

الحدیدہ شہر میں جنگ کے باعث جنگجوؤں کی بڑی تعداد کھو دینے کے بعد افریقی شہریوں کو بھرتی کرنے اور انہیں عسکری تربیت دینا شروع کی ہے۔رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے افریقی باشندوں کی مجبوریوں سیفایدہ اٹھا کر انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کے حربے استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔حوثی باغیوں نے اپنے زیرتسلط علاقوں میں رہنے والے افریقی تارکین وطن کو بھرتی کرنے اور انہیں یمن کی آئینی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرنا شروع کیا ہے۔ذرائع کے مطابق حوثی باغی یمن کے بیشتر علاقوں سے افریقی نوجوانوں کو جمع کررہے ہیں۔ یہ افریقی اپنے ملکوں میں ابتر معاشی حالات اور خانہ جنگی کے باعث فرار ہو کر یمن میں آباد ہوئے ہیں مگر اب وہ حوثی ملیشیا کی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں۔حوثی ملیشیا کی طرف سے افریقی شہریوں کو بندوق اٹھانے اور اپنی صفوں میں شامل کرنے کے عوض مالی مراعات اور دیگر پرکشش پیکجزکی پیش کش کرکے انہیں اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔ انہیں بھرپور مالی معانت فراہم کرنے کی یقین دہانی کی جاتی اور جنگ کے لیے بھرتی ہونیوالوں کے خاندانوں کی کفالت کی پیش کش کی جاتی ہے۔خیال رہے کہ حوثی ملیشیا کو ملک میں حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے افرادی قوت کی سخت قلت کا سامنا ہے جس کے باعث وہ کبھی بچوں کو جنگ کا ایندھن بناتے ہیں اور کبھی غیرملکی افریقی باشندوں کو استعمال کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…