جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں گم ہونے سے کیا مسائل پیدا ہو رہے ہیں؟ ذہنی طور پر صحت مند رہنے کے لیے صبح کتنے بجے تک سونا چاہیے؟ ماہرین کی انتہائی مفید باتیں

datetime 20  مارچ‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں کنٹینیوڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔سیمینار کا مقصد طالبعلموں میں موبائل اور انٹر نیٹ کے استعمال کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا ۔سیمینار سے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر اقبال خان آفریدی اور ایس ایم سی کے سابق طالبعلم ڈاکٹر عرفان علی سید نے خطاب کیا ۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ آج کی نسل کے تمام مسائل کا حل اسلامی تعلیمات کی بجاآوری میں پوشیدہ ہے ۔اسلام زندگی کے ہر معاملے میں میانہ روی کا درس دیتا ہے ۔یہ ہی اصول گیجٹس اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے بھی اختیار کرنا چاہیئے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کل بچے رات گئے تک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں گم رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں متعدد نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جن میں ڈپریشن سب سے عام ہے ۔ڈپریشن سے بچے رہنے کے لیے ضروری ہے کہ رات کو زیادہ سے زیادہ رات ساڑھے دس بجے تک سوجایا جائے اور صبح سویرے اٹھا جائے ۔رات کی پرسکون نیند اور دن میں بیس منٹ کی ورزش انسان کو بہت سی بیماریوں سے دور رکھتی ہے ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آئرلینڈ میں نفسیات داں کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر عرفان علی سید کا کہنا تھا کہ فی زمانہ جدید ٹیکنالوجی نے ہم سب کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی ہماری تابع ہوتی نہ کہ ہم اس کے ۔ڈاکٹر عرفان علی سید نے اس موقع پر گیجٹس کے استعمال کے بد اثرات کے حوالے سے پریزنٹیشن بھی دی جس میں مختلف مثالوں کے ذریعے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کی دنیا سے بلاضرورت قرب حاصل کرنے کے نقصانات بتائے ۔سیمینار کی روح رواں ڈاکٹر راحت ناز نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…