امریکہ، برطانیہ اور یورپ جیسے مہذب ملکوں میں افریقی النسل یا سیاہ فام باشندوں کو اپنی شناخت اور پہچان بنانے کیلئے بہت محنت کرنا پڑی۔ اگرچہ امریکی صدر ابراہم لنکن نے 19ویں صدی کے وسط میں امریکہ میں سیاہ فام افراد کے حقوق کے حوالے سے کافی اہم کام کیا لیکن اس کے باوجود 20ویں صدی کے آغاز تک سیاہ فام غلاموں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہا۔ 20 صدی کی دوسری دہائی میں پہلی عالمی جنگ کے بعد سیاہ فام بھی اپنے حقوق کیلئے منظم ہونے لگے۔ اس صدی کے وسط تک وہ کافی حد تک اس میں کامیاب ہو بھی گئے لیکن پھر بھی انہیں مہذب ملکوں میں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت دی گئی۔ کھیل، سرکاری ملازمتوں ، سکولوں کالجوں میں داخلوں ، فوج اور دیگر اداروں سمیت ہر جگہ ان سے تعصب برتا گیا۔ شوبز کی دنیا تو ویسے بھی خوبصورتی اور چکاچوند کی دنیا ہے اس لئے اس دنیا میں ابتدائ میں سیاہ فام افراد کا داخلہ توجیسے بالکل ہی ممنوع تھا۔
یہ صورتحال اب کافی حد تک بدل چکی ہے ۔ شوبز کی دنیا میں دیکھا جائے تو اداکاری اور گلوکاری کے شعبوں میں اب سیاہ فام افراد کی کمی نہیں ۔ یورپ اور امریکہ میں اب ان کے حوالے سے رویئے میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آ چکی ہیں لیکن تعصب اپنی جگہ قائم ہے۔ کھیلوں میں اکثر ایسے واقعات اب بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جب کسی سیاہ فام کھلاڑی کو حریف ٹیم یا حریف ٹیم کے سفید فام افراد کی طرف سے نفرت اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کھیلوں کے عالمی ادارے ان کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہیں لیکن اس تعصب کا خاتمہ مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکا۔ کچھ ایسا ہی حال ماڈلنگ کی دنیا میں بھی ہے، اداکاری اور گلوکاری کے شعبے میں تو افریقی نسل کے یہ باشندے اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کر چکے ہیں لیکن ماڈلنگ میں ایسا نہیں ، یہی وجہ ہے کہ سوائے نومی کیمبل کے کوئی سیاہ فام ماڈل عالمی سطح پر شہرت حاصل نہیں کر سکی۔ اداکاری کے شعبے میں بات کی جائے تو مورگن فری مین، ڈینزل واشنگٹن، سیموئل ایل جیکسن اور ول سمتھ جیسے سپر سٹارز کے نام سامنے آتے ہیں جبکہ گلوکاری کے شعبے میں ریہنا، سی لوگرین اور مائیکل جیکسن جیسی شخصیات نے شہرت پائی۔




















































