پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ادلب میں ترکی کے تعاون سے جیل پرروسی بمباری ،دسیوں شدت پسند قیدی فرار

datetime 14  مارچ‬‮  2019 |

دمشق (این این آئی)شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں ایک جیل پر روسی طیاروں کی بمباری کے بعد وہاں پر قید کیے گئے دسیوں قیدیوں کو فرار کا موقع مل گیا۔تحریر الشام کی طرف سے مفرور قیدیوں کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے مگربہت سے اب بھی مفرور ہیں۔ادھر روسی فوج نے دعوی کیاہے کہ اس نے ادلب میں ایک فوجی کارروائی کے دوران

اسلحہ کا ایک گودام تباہ کردیا۔ ادلب میں ترکی کے تعاون سے ایک کارروائی کی گئی جس میں النصرہ فرنٹ کا اسلحہ کا ایک گودام تباہ کیا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق ادلب کی جیل پر روس اور ترکی کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں دسیوں انتہا پسند قیدی فرار ہوگئے۔ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزر ویٹری کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ادلب کے علاقے میں روسی فوج کی فضائی جارحیت میں واضح اضافہ دیکھا گیا ۔سیرین آبزر ویٹری کی طرف سے بتایا گیا کہ ادلب کی جیل پر بمباری کے بعد وہاں قید کیے گئے دسیوں قیدی فرار ہوگئے۔ ان میں بعض اسد رجیم کے حامی ملیشیاؤں کے ارکان بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریر الشام کی طرف سے مفرور قیدیوں کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے مگربہت سے اب بھی مفرور ہیں۔ادلب کی جیل پر روسی بمباری میں ترکی کا بھی تعاون حاصل رہا ہے۔ ترکی دنیا کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے حالانکہ ترکی نے کئی سال سے شام میں لڑنے والے انتہا پسندوں کو تحفظ فراہم کیا۔ادھر روسی فوج نے دعوی کیا کہ اس نے ادلب میں ایک فوجی کارروائی کے دوران اسلحہ کا ایک گودام تباہ کردیا۔روسی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ادلب میں ترکی کے تعاون سے ایک کارروائی کی گئی جس میں النصرہ فرنٹ کا اسلحہ کا ایک گودام تباہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…