اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مودی کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف تنقید کرنا بھارتی انتہا پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھایا، بھارتی صحافی کو جان کا خطرہ لاحق ہو گیا

datetime 13  مارچ‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی) کشمیری طلبا کو تشدد سے بچا کر اور اپنے گھر میں پناہ دینے پر بھارتی صحافی کو انتہا پسند ہندو قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔ جارحیت پسند مودی کے بھارت میں مسلمانوں اور خصوصاً کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنا جرم بن گیا ، پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت میں کشمیری طالبعلموں کو تشدد سے

بچا کر پناہ دینے اور بحفاظت آبائی گھروں تک پہنچانے والی بھارتی صحافی کو انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔بھارتی صحافی ‘‘ساگریکا کسسو’’ 26 سالہ کشمیری پنڈت ہیں اور جموں کی رہائشی ہیں جو آن لائن انگلش نیوز چینل کیلئے کام کرتی ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد جب بھارت میں کشمیری طالبعلموں پر تشدد کیا جا رہا تھا تو ساگریکا نے کھلے عام ٹویٹر پر کشمیری مسلمانوں کو پناہ دینے کی پیشکش کی۔بھارتی صحافی نے ایک ماہ کے دوران تقریباً 18 کشمیریوں کو ناصرف پناہ دی بلکہ انہیں باحفاظت کشمیر میں انکے آبائی علاقوں تک بھی پہنچایاجس پر کئی کشمیری نوجوانوں نے ٹویٹر پر انکا شکریہ بھی ادا کیا۔ ساگریکا مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہتی ہیں اور مختلف آرٹیکلز کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کا کچہ چٹھا بھی کھولتی رہتی تھیں۔مودی کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف تنقید کرنا بھارتی انتہا پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ساگریکا کو حق گوئی پرغدار کہہ کر سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکیاں دینے لگے، جس کے باعث بھارتی صحافی کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…