جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے والوں کو ٹیکس دہندگان کی لسٹ میں شامل کرے، صدراسلام آبادر چیمبر آف کا مرس

datetime 13  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ ایف بی آر نے یکم مارچ کو ایکٹیو ٹیکس پئیرز کی ایک لسٹ شائع کی ہے لیکن اس میں 31دسمبر2018کے بعد ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کو شامل نہیں کیا گیا جس سے ایسے ٹیکس دہندگان کو مایوسی ہوئی ہے لہذا انہوں نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ تمام لیٹ فائلرز کو بھی مذکورہ لسٹ میں شامل کیا جائے۔

تا کہ وہ غیر ضروری مسائل سے بچ سکیں اور ایکٹیو ٹیکس پیئرز کو ملنے والے فائدوں سے استفادہ حاصل کر سکیں۔احمد حسن مغل نے کہا کہ کام کے بوجھ، ایف بی آر کے ای فائلنگ سسٹم کی سست روی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بہت سے ٹیکس دہندگان مقررہ تاریخ میں اپنے ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کر سکے تاہم انہوں نے 31دسمبر 2018کے بعد اپنے ریٹرن فائل کئے لیکن ان کا نام مذکورہ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا جو ایک مثبت اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر تاخیر سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کو بھی فائلرز میں شامل کرے جس سے ان کو کاروبار چلانے میں سہولت ہو گی اور ٹیکس نظام پر ان کا اعتماد بڑھے گا۔ انہوں نے ایف بی آر کے چیئرمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے ماتحت افسروں کو یہ ہدایات جاری کریں کہ جن ٹیکس دہندگان نے ریٹرن فائل کرنے کیلئے تاریخ میں توسیع کی درخواست دی تھی اور ان کی درخواست مسترد نہیں کی گئی تھی ان کو بھی ایکٹیو ٹیکس پیئرز کی لسٹ میں شامل کیا جائے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انورسیٹھی نے کہا کہ موجودہ حکومت ٹیکس ریونیو کو بہتر کرنے کیلئے ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور ایف بی آر میں اصلاحات لانے میں کافی سنجیدہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تاخیر سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کو ٹیکس دہندگان کی لسٹ میں شامل نہ کرنا ایسا اقدام ہے

جس سے حکومت کی ٹیکس ریونیو کو بہتر کرنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں کیونکہ اس سے نئے ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے ایف بی آر کی طرف سے ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد

متاثر ہو رہا ہے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے کیلئے یہ اشد ضروری ہے کہ محکمہ ٹیکس دہندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے اور ان کو ایسی آسانیاں فراہم کرے جس سے دوسروں کو ٹیکس نیٹ میں آنے میں ترغیب محسوس ہو۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…