پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پنجاب حکومت نے مزدوروں کے حق میں فیصلہ سنا دیا ، تنخواہوں میں بڑا اضافہ

datetime 8  مارچ‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم تنخواہ 16ہزار 500مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ صنعتی کارکنوں کے لئے مختلف شہروں میں لیبر کالونیاں بھی بنائی جا رہی ہیں ،ملتان ، ننکانہ صاحب اور لاہور میں لیبر کالونیوں میں فلیٹس کی الاٹمنٹ جلد شروع کر دی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا ۔

جس میں صوبائی وزیر محنت انصر مجید خان نیازی ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری محنت، کمشنر پنجاب ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوٹ ، سیکرٹری کوارڈینیشن وزیر اعلی پنجاب اور سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ نے شرکت کی ۔اجلاس میں محکمہ محنت کی کارکردگی اور صنعتی کارکنوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پنجاب حکومت نے صنعتی کارکنوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ۔ عثمان بزدار نے کہا کہ صنعتی کارکنوں کو خصوصی لیبر کارڈ جاری کئے جائیں گے ،خصوصی لیبر کارڈ کے ذریعے کارکن رعایتی نرخوں پر اشیا حاصل کر سکیں گے۔ لیبر کارڈکے ذریعے دستیاب سرکاری سہولتوں کی فراہمی میں بھی رعایت دینے کی تجویز دی گئی ۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ خصوصی لیبر کارڈ کے اجرا سے متعلق ضروری امور جلد طے کئے جائیں ، خصوصی لیبر کارڈ کے ذریعے کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ رعایت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں کارکنوں کے لئے کم ازکم تنخواہ15000 سے بڑھا کر 16500 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خصوصی لیبر کارڈ کے اجرا کا پروگرام تحریک انصاف کی حکومت کا صنعتی کارکنوں کی فلاح و بہبود کیلئے احسن اقدام ہے ،اس اقدام سے صنعتی کارکنوں کو ریلیف ملے گا ۔ عثمان بزدار نے کہا کہ صنعتی کارکنوں کے لئے مختلف شہروں میں لیبر کالونیاں بھی بنائی جا رہی ہیں ،ملتان ، ننکانہ صاحب اور لاہور میں لیبر کالونیوں میں فلیٹس کی الاٹمنٹ جلد شروع کر دی جائے گی ،لیبر کالونیوں میں الاٹمنٹ کا طریقہ کار مکمل طور پر شفاف ہو گا ۔ اجلاس میں سوشل سکیورٹی کے ہسپتالوں میں آٹومیشن سسٹم لانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ عثمان بزدار نے کہا کہ آٹو میشن سسٹم سے ہسپتالوں میں مریضوں کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے گا، آٹو میشن سے مریضوں کو علاج معالجے میں بھی سہولت ملے گی۔ ریٹائر ڈ ورکرز کو بھی سوشل سکیورٹی کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی مفت سہولت دینے کی تجویز دی گئی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رحیم یار خان اور سرگودھا میں سوشل سیکورٹی ہسپتال بنائے جائیں گے ،سوشل سیکورٹی کے ہسپتالوں کو مرحلہ وارپروگرام کے تحت سنٹر آف ایکسیلینس بنایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…