جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی سرپرستی سے کارپٹ انڈسٹری کے ذریعے دیہی علاقوں میں معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے : چیئر پرسن سی ٹی آئی

datetime 3  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو نئے آئیڈیاز سے روشناس کرانے کیلئے مربوط حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے ، اگر حکومت سرپرستی کرے تو کارپٹ انڈسٹری کے ذریعے دیہی علاقوں میں معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملکی اور خصوصاًغیر ملکی خریداروں کو اپنی مصنوعات کی

جانب راغب کرنے کیلئے ہمیں بہترین معیارکے ساتھ تخلیقی کام کرنا ہوگا۔کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے اس جانب سفر کا آغاز کر دیا ہے اور نوجوانوں کو نئے آئیڈیاز سے روشنا س کرانے کے لئے مربوط حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیار کے اعتبار سے پاکستانی مصنوعات کی بڑی مانگ ہے تاہم پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہمیں عالمی منڈیوں میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ مینو فیکچررز کی معاونت کرے تاکہ ہم مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ پرویز حنیف نے کہا کہ کارپٹ انڈسٹری کاحکومت پر کسی بھی طرح کا بوجھ نہیں اور اس کے ذریعے دیہی علاقوں میں معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے ۔ حکومت کو تجویز ہے کہ لائیو سٹاک اور مرغبانی کی طرح کارپٹ انڈسٹری کو بھی سکیموں میں شامل کیا جائے اور اس کیلئے لوگوں کو آسان شرائط پر قرض دئیے جائیں جس سے دیہی آبادی کو گھر کی دہلیز پر روزگار میسر آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے اپنی بھرپور خدمات پیش کر رہی ہے اورحکومت کی معاونت سے اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…