منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کی قدیم درس گاہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مین خواتین پر کیسی شرط آئد ہے۔ ملاحظہ فرمایئں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی: ہندوستان کی قدیم تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں خواتین کا داخلہ بند ہے۔

یونیورسٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبات کی وجہ سے لائبریری آنے والےلڑکوں کی’توجہ بھٹک‘سکتی ہے۔

انتہائی معتبر یونیورسٹی کے خواتین کالج میں پڑھانے والی اسسٹنٹ پروفیسر شاداب بانو نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کی طالبات کو مختلف حیلے بہانے بناتے ہوئے مرکزی لائبریری میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔

’ہم بہت عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں، ہم جب بھی مطالبہ کرتے ہیں حکام کوئی نہ کوئی وجہ بتاتے ہوئے لڑکیوں کو لائبریری جانے نہیں دیتے‘۔

’اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ لائبریری جانے والا راستہ محفوظ نہیں اور اب یہ نیارخ سامنے آیا ہے‘۔

دوسری جانب، ہندوستان کی وزیر تعلیم سمرتی ایرانی نے بھی ٹائمز آف انڈیا کی اس خبر پر غصہ ظاہر کیا ہے جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کو اس رویہ کا ذمہ دار ٹراایا گیا ہے۔

سمرتی کا کہنا ہے کہ اگر خواتین پر پابندی نہ لگائی جائے تو لائبریری میں ’چار گنا‘زیادہ لڑکے آئیں گے۔

سمرتی نے صحافیوں کو بتایا کہ بطور ایک خاتون اس طرح کی خبروں پر صرف افسوس ہی نہیں بلکہ غصہ بھی آتا ہے۔

’میں نے ہائی ایجوکیشن سیکریٹری سے مزید تفصیلات اور یونیورسٹی سے وضاحت مانگی ہے، ایک تعلیمی ادارے سے سامنے آنی والی ایسی خبریں ہماری بیٹیوں کے لےی توہین آمیز ہیں‘۔

یونیورسٹی کے اس فیصلے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

ایک سینئر سیاست دان یوگندر یادیو نے ٹویئٹر پر کہا ’ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب آپ اسی احمقانہ منطق کی بنیاد پر لڑکیوں کا کلاس میں بھی داخلہ بند کر دیں‘۔

یونیورسٹی کے ایک ترجمان راحت ابرار کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے بیان کا ’غلط مطلب‘نکالا گیا۔

’انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ یونیورسٹی کے موجودہ انفرا سٹرکچر کو دیکھتے ہوئے طالبات کو اجازت دینے سے لائبریری کے اندر رش بڑھ سکتا ہے‘۔

’جب مناسب ہو گا لڑکیوں کو اجازت مل جائے گی۔ ویمنز کالج کی اپنی لائبریری بہت اچھی ہے اور طالبات اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں‘۔

خیال رہے کہ ریاست اتر پردیش میں واقع 150 سال پرانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جڑیں مغرب سے متاثر ہو کر علاقے میں بنائے گئے اسکولوں پر ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…