اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کرغزستان میں واقع ترک حکومت کے زیر انتظام سکول کا پرنسپل بچوں سے ہراسانی میں ملوث نکلا

datetime 28  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(پ ر)کرغزستان کے صف اول کے اخبار ویچرنی بشکک کے مطابق حکمران جماعت کی رکن اسمبلی ایرینا کرامشکینا نے کرغزستان کی پارلیمنٹ کے اراکین کو ترک وزارت تعلیم کے تحت بشکک میں قائم اسکول کے پرنسپل کی جانب سے پرائمری اسکول کے بچوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر طلب کیا ۔ رکن پارلیمان ایرینا کرامشکینا نے اپنے خطاب میں والدین کی جانب سے اپیل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ

’ ’ماناس یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع اسکول اجازت نامے کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ بیس برسوں سے لائسنس کے بغیر کام کر رہا ہے۔ ‘‘ایرینا نے کہا کہ والدین نے کرغزستان کی وزارت تعلیم میں بھی درخواست جمع کروائی ہے اور یہ کہ وزارت نے انھیں بتایا ہے کہ اس اسکول کے بارے میں کوئی اطلاع میسر نہیں۔ ایرینا کرامشکینا نے بتایا کہ متعلقہ پرنسپل عمر آیئدین کو کچھ حکام کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بھی کہ والدین ان نا خوشگوار واقعات پر غم و غصہ کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پرنسپل عمر آیئدین نے اساتذہ اور والدین کو دھمکایا ہے تا کہ وہ کوئی شکایت نہ کر سکیں اس وجہ سے بہت سے والدین اس خوف کا شکار ہیں کہ ان کے بچوں کو اسکول سے نکال نہ دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بشکک میں ترک سفارتخانے میں جا کر شکایت درج نہیں کرا سکے۔ رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ یہ واقعات اس وقت سامنے آئے جب ایک متاثرہ بچے نےشدید خوف کے باعث اسکول جانے سے انکار کر دیا۔ اس بچے کو ماہر نفسیات کے پاس لے جایا گیا جس نے ہراسانی کے متعلق آگاہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ پرنسپل عمر آیئدین نے بچوں کو اپنے دفتر میں بلایا۔ اس نے بچوں کو ہراساں کیا اور ان کی تصاویر بھی اتاریں۔ اسی طرح وہ بچوں کو دیہی علاقے میں لے گیا اور وہاں بھی انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

جب ایک 9 سالہ بچے نے اس واقعے کے متعلق اپنے والدین کو آگاہ کیا تو آیدین نے اسے اسکول سے نکال دیا ۔ اس کے بعد ان والدین نے لینینسکی ریجنل پولیس ڈپارٹمنٹ بشکک میں جا کر پرنسپل کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔ جب پولیس والدین کے ہمراہ اسکول پہنچی تو انھیں اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وقت اس معاملے کی تحقیقات نیشنل سیکیورٹی اینڈ ا نٹیلیجنس کمیٹی کر رہی ہے۔ وہ خاندان شدید دبائو کا شکار ہے۔

اسکول انتظامیہ نے کیس واپس لینے کے لیے متاثرہ خاندان کو رقم کی پیشکش کی ہے۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک کمیشن قائم کیا جائے جو تحقیقات کرے اور اسکول کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ اس خبر کے متعلق سرکاری موقف جاننے کے لیے ویچرنی بشکک نے نیشنل سیکیورٹی اینڈ انٹیلیجنس کمیٹی، وزارت داخلہ اور وزارت تعلیم سے رابطہ کیا۔ ان محکموں کا موقف یہ ہے کہ معاملات زیر تفتیش ہیں اور وہ اس مرحلے پر کوئی بھی معلومات دینے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور اس معاملے کے پس پردہ حقائق کا تعین ہو جانے پر اس کے متعلق معلومات دی جاسکیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…