ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

کرغزستان میں واقع ترک حکومت کے زیر انتظام سکول کا پرنسپل بچوں سے ہراسانی میں ملوث نکلا

datetime 28  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(پ ر)کرغزستان کے صف اول کے اخبار ویچرنی بشکک کے مطابق حکمران جماعت کی رکن اسمبلی ایرینا کرامشکینا نے کرغزستان کی پارلیمنٹ کے اراکین کو ترک وزارت تعلیم کے تحت بشکک میں قائم اسکول کے پرنسپل کی جانب سے پرائمری اسکول کے بچوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر طلب کیا ۔ رکن پارلیمان ایرینا کرامشکینا نے اپنے خطاب میں والدین کی جانب سے اپیل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ

’ ’ماناس یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع اسکول اجازت نامے کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ بیس برسوں سے لائسنس کے بغیر کام کر رہا ہے۔ ‘‘ایرینا نے کہا کہ والدین نے کرغزستان کی وزارت تعلیم میں بھی درخواست جمع کروائی ہے اور یہ کہ وزارت نے انھیں بتایا ہے کہ اس اسکول کے بارے میں کوئی اطلاع میسر نہیں۔ ایرینا کرامشکینا نے بتایا کہ متعلقہ پرنسپل عمر آیئدین کو کچھ حکام کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بھی کہ والدین ان نا خوشگوار واقعات پر غم و غصہ کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پرنسپل عمر آیئدین نے اساتذہ اور والدین کو دھمکایا ہے تا کہ وہ کوئی شکایت نہ کر سکیں اس وجہ سے بہت سے والدین اس خوف کا شکار ہیں کہ ان کے بچوں کو اسکول سے نکال نہ دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بشکک میں ترک سفارتخانے میں جا کر شکایت درج نہیں کرا سکے۔ رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ یہ واقعات اس وقت سامنے آئے جب ایک متاثرہ بچے نےشدید خوف کے باعث اسکول جانے سے انکار کر دیا۔ اس بچے کو ماہر نفسیات کے پاس لے جایا گیا جس نے ہراسانی کے متعلق آگاہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ پرنسپل عمر آیئدین نے بچوں کو اپنے دفتر میں بلایا۔ اس نے بچوں کو ہراساں کیا اور ان کی تصاویر بھی اتاریں۔ اسی طرح وہ بچوں کو دیہی علاقے میں لے گیا اور وہاں بھی انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

جب ایک 9 سالہ بچے نے اس واقعے کے متعلق اپنے والدین کو آگاہ کیا تو آیدین نے اسے اسکول سے نکال دیا ۔ اس کے بعد ان والدین نے لینینسکی ریجنل پولیس ڈپارٹمنٹ بشکک میں جا کر پرنسپل کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔ جب پولیس والدین کے ہمراہ اسکول پہنچی تو انھیں اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وقت اس معاملے کی تحقیقات نیشنل سیکیورٹی اینڈ ا نٹیلیجنس کمیٹی کر رہی ہے۔ وہ خاندان شدید دبائو کا شکار ہے۔

اسکول انتظامیہ نے کیس واپس لینے کے لیے متاثرہ خاندان کو رقم کی پیشکش کی ہے۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک کمیشن قائم کیا جائے جو تحقیقات کرے اور اسکول کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ اس خبر کے متعلق سرکاری موقف جاننے کے لیے ویچرنی بشکک نے نیشنل سیکیورٹی اینڈ انٹیلیجنس کمیٹی، وزارت داخلہ اور وزارت تعلیم سے رابطہ کیا۔ ان محکموں کا موقف یہ ہے کہ معاملات زیر تفتیش ہیں اور وہ اس مرحلے پر کوئی بھی معلومات دینے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور اس معاملے کے پس پردہ حقائق کا تعین ہو جانے پر اس کے متعلق معلومات دی جاسکیں گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…