ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

فورتھ شیڈول میں شامل افراد پر پاسپورٹ آفس کے دروازے بند بینک اکاؤنٹس منجمد،مزید کیا پابندیاں لگائی گئیں؟پڑھئے تفصیلات

datetime 25  فروری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ان افراد پر پاسپورٹ آفس کے دروازے بند اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے۔سرکاری دستاویز کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل افراد اب نہ تو قرضہ لے سکیں گے اور نہ ہی بیرون ملک جاسکیں گے۔

جبکہ ان کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرکے ان کے کریڈٹ کارڈ بنوانے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔فورتھ شیڈول میں شامل افراد پر مزید پابندیاں وزارت داخلہ کے احکامات اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی نشاندہی کے بعد عائد کی گئیں۔اس کے علاقہ فورتھ شیڈول میں شامل تمام افراد کی نئی فہرست امیگریشن حکام کے حوالے کردی گئی، جس کے بعد ان افراد کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا کام بھی شروع کردیا گیا۔سرکاری دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کو 6 ہزار ایک سو 22 بینک اکاؤنٹس کے اعداد وشمار فراہم کیے گئے، جن میں سے اب تک 4 ہزار 8 سو 63 اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا۔دستاویز میں بتایا گیا کہ منجمد کئے گئے بینک اکاؤنٹس سے 13 کروڑ 15 لاکھ روپے ضبط کر لیے گئے۔اس کے ساتھ ہی نیکٹا کی سفارش پر ان افراد کے اسلحہ لائسنس بھی منسوخ کر دیئے گئے۔خیال رہے کہ اے ٹی اے برائے سال 1997 کے مطابق ہر وہ شخص جس کا اندراج فورتھ شیڈول کی فہرست میں ہو، اپنی مستقل رہائش گاہ کو چھوڑنے اور واپس آنے پر پولیس کو آگاہ کرنے کا پابند ہے ان افراد کے لیے لازم ہے کہ متعلقہ پولیس تھانے میں پرامن رہنے کے لیے زرِضمانت جمع کروائیں، بصورت دیگر پولیس انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت گرفتار کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔واضح رہے کہ اے ٹی اے میں سال 2012 میں کی جانے والی ترمیم کے بعد پولیس کو یہ اختیار حاصل ہوگیا تھا کہ وہ اس فہرست میں شامل افراد سے ان کی نقل و حمل کی بابت دریافت کرسکے اور عوامی مقامات مثلاً کالجوں، ریسٹورنٹس، اسکول وغیرہ جنہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، سے دور رہنے کی ہدایت کرے۔پولیس کے پاس ان افراد سے ان کے مالی معاملات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے اور پرامن رہنے کے لیے زرضمانت حاصل کرنے کا بھی اختیار ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…