اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بجٹ کے آنے سے قبل ہی مارکیٹ میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ذخیرہ اندوزوں نے اشیائے خورد و نوش کی مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کو پریشانی سے دو چار کر دیا ہے۔ آٹے، چینی، دال اور مرغی کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ سے قبل ہی ملک میں مصنوعی قلت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اشیائے خورد و نوش کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ بجٹ کے بعد اور رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر زیادہ سے زیادہ قیمتیں وصول کی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں آٹے، چینی، دال اور چاول کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ملک میں گندم، چینی اور چاولوں کی وافر مقدار ہونے کے باوجود قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس سلسلے میں حکومتی ادارے مکمل طور پر خاموش ہیں۔
ذرائع کے مطابق امسال ملک میں گندم اور چاول کے کاشتکاروں کو اپنے اجناس کی مناسب قیمت ملنے میں بے حد مشکلات درپیش رہی تھیں مگر اس کے باوجود بھی ملک میں آٹے کی قیمت میں کمی نہ ہو سکی۔ ذخیرہ اندوزوں نے وفاقی بجٹ اور رمضان المبارک کی آمد سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے اور آنے والے دنوں میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
بجٹ سے قبل ہی اشیائے خوردونوش کے دام بڑھ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
دنیا کا سب سے بڑا غار
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
معطل خاتون افسر کے گھر سے کروڑوں روپے نقد، ہیرے اور سونا برآمد
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا
-
مون سون کی آمد، ملک کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے بارشوں کی پیشگوئی
-
ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑی گاڑیوں کی درآمدات بلند ترین سطح پر پہنچ گئی



















































