جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اکانومی واچ کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے فیصلے کی حمایت

datetime 23  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے خسارہ کم کرنے کے لئے نیم جان سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔ ناکام سرکاری اداروں کو پالنے کے بجائے فوری فروخت کرنا ملکی مفاد میں ہے۔

نجکاری میں مشکلات ہوں تو ان اداروں کو بند کر دیا جائے۔سرکاری یتیم خانوں میں ملازمتیں جاری رکھنے کے لئے بیس کروڑ عوام کا استحصال نہیں ہونا چائیے۔نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کے نقصانات کھربوں روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ 2017-18 میں صرف واپڈا اور پی آئی اے کو زندہ رکھنے کے لئے حکومت کو 277 ارب روپے خرچ کرنا پڑے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اٹھارہ ہزار ملازمین پر مشتمل ادارے پی آئی اے کا ماہانہ نقصان تیس ملین ڈالر اور کل قرضہ دو ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔سٹیل مل بھی دو سال سے بند پڑی ہے مگر اسکے ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں باقائدگی سے ادا کی جا رہی ہیں۔توانائی کے شعبے اورریلوے سمیت 197 مفلوج اداروں کا حال توجہ طلب ہے جس کے نقصانات کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔نقصانات کے باوجود سرکاری اداروں کی تعداد، ان کے ملازمین کی تعداد اور انتظامیہ کے حجم میں اضافہ حیران کن ہے۔انھوں نے کہا کہ ملکی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹنے والے ان اداروں کو زندہ رکھنے سے نہ تو عوام کو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی ٹیکس گزار کو بلکہ سارا فائدہ نا اہل ملازمین،کرپٹ انتظامیہ سیاستدانوں اور اشرافیہ کو ملتا ہے۔ان دیوالیہ اداروں کو ہر حکومت مرغن ٹھیکے لینے ، سیاسی رشوتیں دینے اور اپنے نا اہل پارٹی ورکروں کو اچھی ملازمتیں دینے کے لئے زندہ رکھتی آ رہی ہے جس کے لئے سرکاری وسائل لٹائے جا رہے ہیں جو عوام کو مسلسل قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے۔ان اداروں کو منافع بخش بنانے کے لئے جو منصوبہ بنایا گیا ہے اسکے نتائج گزشتہ کئی دہائیوں سے بننے والے منصوبوں سے مختلف نہیں ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…