جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی بدحواسی عروج پر۔۔۔!!! بھارتی ٹماٹر پاکستان کو فروخت نہ کرنے کے فیصلے کو بریکنگ نیوز بنا دیا

datetime 20  فروری‬‮  2019 |

لاہور( وائس آف ایشیا)پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی بدحواسی عروج پر پہنچ گئی، بھارتی ٹماٹر پاکستان کو فروخت نہ کرنے کے فیصلے کو بریکنگ نیوز بنا دیا۔ جعلی رپورٹس نشر کر دیں۔ تاجروں کا کہنا ہے بھارتی ٹماٹر مضر صحت ہیں، گذشتہ 3 سال سے درآمدات پر پابندی ہے۔بھارتی کسانوں نے اعلان کر دیا کہ ہم پاکستان کو ٹماٹر برآمد نہیں کریں گے۔

اس خبر کو بھارتی میڈیا نے خوب اچھالا اور بھارت کی پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی قرار دے کر شور مچانا شروع کر دیا، بھارتی میڈیا نے کہا کہ پاکستان ہمارے ٹماٹر کھا کر ہم پر حملہ کرتا ہے، ہمارے جوانوں کو مارتا ہے ہم ٹماٹر نہیں دینگے، بھارتی ٹی وی کی خبر مذاق بن گئی۔کسانوں کے نمائندے رویندرا پٹی دار نے کہا کہ وہ زیادہ تر ٹماٹر اگاتے ہیں، جس کا ایک حصہ پاکستان کو برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان ہماری خوراک کھا کر ہمارے فوجیوں کو مارتا ہے، اب ہم نہ خود پاکستان کو ٹماٹر برآمد کریں گے، نہ کسی دوسرے ملک کو کرنے دیں گے۔ ان کیلئے منافع سے زیادہ اہم اپنے فوجی ہیں، فوجی ہی نہ رہے تو ہم زندہ کیسے رہیں گے۔غلط، جھوٹی اور بے بنیاد خبریں نشر کرنے میں بھارتی میڈیا کا کوئی ثانی نہیں، بیماریاں پھیلانے والے مضر صحت بھارتی ٹماٹر پر پاکستان نے گذشتہ 3 سال پابندی عائد کر رکھی ہے۔ فروٹ اینڈ یجیٹبل ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹماٹر مضر صحت ہیں، گذشتہ 3 سال سے درآمدات پر بابندی عائد ہے، بھارتی میڈیا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے، ہٹ دھرمی میں خود بھارت کا ہی نقصان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…