جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گیس کی پیداوار اور کھپت، سوئی گیس نے رپورٹ جاری کردی

datetime 12  فروری‬‮  2019 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سوئی سدرن گیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ میں گیس کی پیداوار زیادہ ہوتی تاہم کھپت سے کم فراہم کی جاتی ہے، سندھ میں گیس کی پیداوار 2800 سے 3000 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ کھپت 1500 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اعلامیے کے مطابق

ایس ایس جی کو 1100 سے 1200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے جس میں سے صنعتوں کے لیے 300 سے چار سو ایم ایم سی ایف ڈی مختص ہے جبکہ انڈسٹریل ایریا کو اس سے دگنی ضرورت ہوتی ہے۔ ترجمان سوئی گیس کے مطابق سی این جی سیکٹر کو 150 سے 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے جبکہ آئی پی پیز کو300 سے 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملتی ہے۔ تحریک انصاف کا سندھ میں گیس بحران ایک ہفتے میں حل کرنے کا دعویٰ اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ گھریلو اورتجارتی صارفین کو 300سے 350 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں گیس کی قلت کے باعث سی این جی اسٹیشنز بند ہیں جبکہ گھروں میں بھی سپلائی فراہم نہیں کی جارہی ہے، گیس کی قلت کے باعث مکین ایل پی جی سلینڈر اور لکڑیوں پر کھانے پکانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اوررکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت گیس بحران پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے، سندھ میں گیس کی قلت کا مسئلہ ایک ہفتے کے اندر حل ہوجائے گا۔ سوئی گیس کے پریشر میں کمی کے باعث کئی علاقوں میں چولھے ٹھنڈے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ گیس بحران کے حل کے لیے کام جاری ہے، پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت متبادل ذرائع استعمال کرے گی اور ہم ایک ہفتے میں قلت پر قابو پالیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…