بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں کماد کی کاشت کیلئے 18لاکھ 53 ہزار ایکڑ رقبہ کا ہدف مقرر

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پنجاب میں رواں مالی سال کماد کی کاشت کیلئے 18لاکھ 53ہزار ایکڑ رقبہ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ جس سے 621.85من فی ایکڑ اوسط پیداوار کے حساب سے کل 4کروڑ 30لاکھ ٹن گنے کی پیداوار حاصل کی جائے گی جبکہ سال 2013-14ءمیں 18لاکھ 10ہزار ایکڑ رقبہ پر کماد کی کاشت سے 4کروڑ 10لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہوئی تھی جسکی اوسط پیداوار 607.12من فی ایکڑ رہی۔ زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ اس وقت صوبہ پنجاب میں گنے کی اوسط پیداوار 614من فی ایکڑ حاصل کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق کی روشنی میں کاشتکاری کی جائے تو گنے کی اوسط پیداوار ڈیڑھ گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گنے کی پیداوار میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پانی کی کمی ، کھادوں کا غیر متناسب استعمال ، جڑی بوٹیوں کی بہتات اور فصل پر حملہ آور ہونے والے کیڑے وغیرہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…