اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے ق لیگ سے معاملات حل مگر ایم کیو ایم سے خراب ہوگئے،حکومت سے علیحدگی کی تیاریاں

datetime 10  فروری‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)تحریک انصاف کے ق لیگ سے معاملات حل مگر ایم کیو ایم سے خراب ہوگئے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں مناسب نمائندگی نہ ملنے پر اختلافات میں اضافہ ہوگیا۔متحدہ نے حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کردیا۔حکومتی اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔زرائع کے مطابق تحریک انصاف متحدہ قومی موؤمنٹ کو شماریات کی قائمہ کمیٹی دینا چاہتی ہے جبکہ ایم کیو ایم شماریات کی قائمہ کمیٹی لینے سے انکاری ہے۔متحدہ بضد ہے کہ

اسے توانائی ،داخلہ یا انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی دی جائے۔ایم کیو ایم پاکستان نے اس حوالے سے اپنے تحفظات سے حکومت اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کوبھی ا?گاہ کردیا ہے جبکہ ایم کیو ایم نے قائمہ کمیٹیوں میں مناسب نمائندگی نہ ملنے اور دیگر مطالبے پورنے نہ ہونے کی صورت میں حکومت سے علیحدگی پر بھی غور شروع کردیا ہے حکومتی اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا جس میں طے کیاجائے گاکہ حکومت میں رہنما ہے یا اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا ہے۔جبکہ اسی تناظر میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اپنے اراکین قومی اسمبلی کو اسلام ا?باد جانے سے روک دیاہے۔رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی کراچی قیادت میں اختلافات پہلے روز سے تھے جن میں گزشتہ دو ماہ کے دوران شدت آئی۔تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان اور میئر کراچی وسیم اختر کے درمیان سرد جنگ اور پھر قانونی نوٹسز نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی بھی ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو لتاڑتے رہے جبکہ پی ٹی آئی کراچی لیڈرشپ وفاق میں ایم کیو ایم سے اتحاد کو سیاسی مجبوری قرار دیتی رہی۔اس سے قبل بھی ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دی تھی تاہم وفاق کی جانب سے متحدہ کے تحفظات دور کرادیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…