پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

گھر سے جبری بے دخلی : خاتون نے بیٹے کے ہمراہ پُل سے چھلانگ لگا دی

datetime 8  فروری‬‮  2019 |

بوگوتا (مانیٹرنگ ڈیسک)خاتون نے گھر سے نکالے جانے اور خراب مالی حالات سے دل برادشتہ ہوکر دس سالہ بیٹے کے ہمراہ 100 میٹر اونچے سے پُل سے چھلانگ لگادی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکی ملک کولمبیا کے شہر ایباگو میں دل دہلا دینے والے خودکشی کے واقعے میں ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت 32 سالہ جیسی پاؤلو مورینو کروز کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق خاتون کو گھر سے بے گھر کردیا گیا تھا اور وہ مالی طور بھی مستحکم نہیں تھیں جس کے باعث اپنے عمر بیٹے کے ہمراہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مورینو کروز اپنے دس سالہ بیٹے مے کیبالوس کو تھامے پُل کے کنارے پر چھلانگ لگانے کےلیے تیار کھڑی ہے جبکہ ریسکیو اہلکار خاتون کو کسی بھی طرح خودکشی منسوخ کرنے پر راضی کررہے ہیں۔ تاہم خاتون نے ریسکیو اہلکاروں کی منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے 330 فٹ اونچے پُل سے چھلانگ لگاکر اپنی اور اپنے بیٹے کی جان لے لی۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ریسکیو اہلکار چیختا ہے کہ ’او میرے خدا، اس نے خود کو گرا دیا‘ جبکہ ایک ریسکیو اہلکار دس سالہ بچے ہمراہ والدہ کی خودکشی پر صدمے میں چلاجاتا ہے۔ واقعے کے عینی شاہد فائرفایئٹر رافیل ریکو نے میڈیا کو بتایا کہ ’اس نے خاتون کی منت کی اور اسے منانے کی کوشش کہ وہ خودکشی روک دے لیکن افسوس اس نے غلط فیصلے کا انتخاب کیا‘۔ ریکو نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو اہلکار جائے حادثہ پر مقتول بچے اور اس کی ماں کی لاشیں تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مورینو کروز اور اس کے مقتول بیٹے کو حال ہی میں زبردستی گھر سے بے دخل کیا گیا تھا اور ان کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی وہ کرائے پر مکان حاصل کرسکیں۔ ایباگو کے میئر کا کہنا ہے کہ ’کولمبیا باالخصوص ایباگو میں ہمیں اکثر ایسی افسوس ناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…