جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

لینڈنگ یا ٹیک آف کے وقت طیارے کی روشنیاں مدھم کیوں ہوتی ہیں؟

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ کو فضائی سفر کرنے کا موقع ملا ہو یا اکثر کرتے ہوں تو ایک چیز ضرور دیکھی ہوگی اور وہ یہ کہ طیارے کے ٹیک آف یا لینڈنگ کے وقت اس کی لائٹس مدھم ہوجاتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے عرصے سے فضائی سفر کرنے والے افراد کو الجھن میں

ڈال رکھا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ طیارے کا عملہ اپنے ہاتھ پیچھے کیوں رکھتا ہے؟ کچھ افراد کو لگتا ہے کہ یہ سونے کے لیے اچھا وقت ہے مگر ایسا ہونے پر آپ کو ذہنی طور پر زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو بھی یہ سوال ستاتا ہے تو اس کی وجہ کافی حیران کن اور خوفزدہ کردینے والی ہے۔ درحقیقت یہ روایت مسافروں کے تحفظ کے لیے اپنائی گئی ہے۔ اس کے پیچھے یہ خیال ہے کہ لائٹس کو مدھم کرکے مسافروں کو آنکھوں کو ارگرد کے ماحول کی روشنی سے مطابقت میں مدد مل سکے۔ اس کے نتیجے میں مسافروں کی آنکھوں کو تاریکی سے جلد مطابقت میں مدد ملتی ہے اور ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوری انخلاءکی ضرورت ہو۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر مسافر کیبن بہت روشن ہو مگر اچانک تاریکی کرکے آپ سے کہا جائے کہ جلدی سے باہر نکل جائے تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔اسی طرح مسافروں کو کسی مشکل کے وقت اپنے ارگرد کے ماحول کو دیکھنا اور نکلنا آسان ہوجاتا ہے جبکہ لائٹس مدھم نہ کرنے پر کسی مشکل وقت میں زیادہ سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اور ہاں یہ عمل صرف باہر نکلنے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ یہ باہر دیکھنے پر آپ کی آنکھوں سے دباﺅ میں کم کرتا ہے۔ ایک پائلٹ کے مطابق ایسا کرنے سے طیارے کے عملے کے لیے انخلاءکے لیے رکاوٹ بننے والے کسی بھی بیرونی خطرے جیسے آتشزدگی یا ملبے تک رسائی آسانی ہوجاتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…