پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

افغانستان سے امریکی انخلا پڑوسی ممالک کیلئے تشویش کا باعث ، انخلا کے بعدپاکستان کیا کرے گا؟امریکی تھنک ٹینک نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکا، افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا تو طالبان کا امن مذاکرات سے متعلق مفاد ختم ہوجائے گا اور افغانستان کے پڑوسی ممالک جنگ میں مزید شامل ہوجائیں گے۔تاہم ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکی صدر 17 سالہ افغان جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پیر کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 2 سابق امریکی سفیروں اور 2 سابق دفاعی حکام کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ ماہ افغانستان سے آدھی فوج کو واپس بلانے کی تجویز کے نتائج کی نشاندہی کی گئی۔دفاعی امور میں مہارت رکھنے والے امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے لیے تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان، روس، ایران، بھارت اور ازبکستان کی جانب سے افغانستان میں پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ سمیت دیگر برادریوں کی حمایت کی تاریخ موجود ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی حکومت کی مالیات کا مرکز اور ریاست کی رٹ ختم ہونے سے یہ تعلقات بحال ہوں گے اور امریکی انخلا سے یہ دونوں کام سامنے آنا شروع ہوجائیں گے، کابل حکومت عدم استحکام کا شکار ہوگی اور افغان معیشت بھی کمزور پڑے گی۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ پاکستان نے طالبان کو اپنی زمین کا استعمال کرنے دیا ہے اور امریکی فوجی انخلا سے پاکستان کی کھل کر حمایت سامنے آئے گی۔خیال رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے ایسے دعوؤں کی تردید کرتا آرہا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 2001 سے روس اور ایران نے بھی کابل حکومت کی حمایت کی ہے تاہم حالیہ سالوں میں انہوں نے طالبان کو محدود امداد بھی فراہم کی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان نے حالیہ مذاکرات میں امریکا سے وقتا فوقتا اپنے فوجیوں کے انخلا کی بات کی تھی اور قبل از وقت انخلا طالبان کا امن مذاکرات کے لیے مفاد ختم کردے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے قبل از وقت انخلا سے نیٹو افواج کو بھی افغانستان سے نکلنا پڑ سکتا ہے۔رپورٹ کو سابق امریکی نمائندہ برائے افغانستان اور پاکستان جیمز ڈوبن، امریکی سیکریٹری ڈیفنس کے سابق کنٹری ڈائریکٹر جیسن ایچ کیمپ بیل، امریکی اسپیشل آپریشنز جوائنٹ ٹاسک فورس کے سابق تجزیہ کار شان مین اور 2016 سے 2017 کے درمیان خصوصی نمائندہ رہنے والے لورل ای ملر کی جانب سے تیار کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…