پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

خوبصورت ترین خاتون قصائی کا چرچہ،لمبی قطاریں

datetime 15  جنوری‬‮  2019 |

تائپے (نیوز ڈیسک) قصاب کا کام یقیناً دلکشی کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کا گلیمر ہے لیکن تائیوان میں جب ایک خوبرو دوشیزہ نے قصاب کا کام شروع کیا توہر کوئی اس کا دیوانہ ہوگیا۔اخبار ”پیپلز ڈیلی“ کے مطابق 25 سالہ زینگ کائجی فو جین کیتھلک یونیورسٹی میں فلسفے کی طالبہ ہیں لیکن اپنے خاندانی کام میں مدد بھی کرتی ہیں۔

وہ اس قدر دلکش اور نازک ہیں کہ بالکل فیشن ماڈل نظر آتی ہیں لیکن جب وہ ٹوکہ پکڑ کر گوشت کاٹنا شروع کرتی ہیں توان کا حسن دوآتشہ ہوجاتا ہے۔ ڈونگ مین مارکیٹ میں زینگ کے گوشت کے سٹال پر ہر وقت نوجوانوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے اور شہر کے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ اس کے پاس گوشت خریدنے آتے ہیں۔ حال ہی میں جب اس کی تصاویر اور ویڈیو انٹرنیٹ پر آئیں تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک انٹرنیشنل سٹار کی حیثیت اختیار کرگئیں اور اب تائیوان کے علاوہ چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی ان کے مداحوں کی کمی نہیں۔ زینگ کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان محض اسے دیکھنے کے لئے گوشت خریدنے آتے ہیں لیکن وہ اپنی بے پناہ مقبولیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت شرماتی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ بعض نوجوان یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اس کا فون نمبر حاصل کرنے کے لئے انہیں کتنا گوشت خریدنا پڑے گا۔اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے زینگ نے بتایا کہ یہ ایک مشکل کام ہے اور اسے بہت دھیان سے کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی دفعہ گوشت کاٹتے ہوئے زخم لگوا بیٹھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گوشت کے بڑے ٹکڑے کاٹنا قدرے خطرناک ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی فیملی انہیں بڑے ٹوکے کے استعمال سے منع کرتی ہے۔زینگ کے سٹال کے قریب ہی کام کرنے والے ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ اس کے سامنے ہی پلی بڑھی ہے۔ بزرگ کا کہنا ہے کہ زینگ بہت ہی پیاری اور سعادت مند بچی ہے اور بے پناہ مقبولیت کے باوجود اس میں غرور کا نام و نشان نہیں بلکہ وہ روزانہ انتہائی انکساری کے ساتھ اپنا کام کرنے آتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…