بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ریٹیلرز سے ٹرن اوور کے بجائے فکس شرح سے ٹیکس وصولی پر غور

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر پورے سال کے لیے فکس ریٹ سے سیلز ٹیکس عائد کرنے اور پرچون فروش تاجروں پر بھی دکانوں کے حجم کے مطابق فکس شرح سے انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
اس ضمن میںنجی ٹی وی کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ تجاویز ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی سے ملک میں ٹیکس وصولیاں متاثر ہوتی ہیں لہٰذا پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر کے حساب سے فکس ٹیکس عائد کردیا جائے اور یہ ٹیکس ایک سال کی مدت کے لیے عائد کیا جائے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ ہونے کی صورت میں فی لیٹر پٹرول پر فکس شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ اس سے ایف بی آر کا ریونیو بھی متاثر نہیں ہوگا اور قیمتوں کے حوالے سے بھی بے یقینی صورتحال پیدا نہیں ہوسکے گی جو ملکی معیشت کے لیے مثبت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے دی جانے والی اس بجٹ تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس کے علاوہ پٹرول کی طرح پرچون فروش تاجروں پر بھی ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹرن اوور ٹیکس عائد کرنے کے بجائے فکس ریٹ کے حساب سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے کیونکہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں مگر اس کے حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ دستاویز کے مطابق تاجروں پر فکس ٹیکس ان کے ٹرن اوور کے بجائے ان کی دکانوں کے حجم کے حساب سے عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ جتنی بڑی د±کان ہوگی، اس پر فکس ٹیکس اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ انڈر انوائسنگ کے خاتمے کیلیے آئندہ بجٹ میں کم ازکم درآمدی ویلیو متعین کرکے اس کا اعلان کیا جائے۔ یہ کم ازکم درآمدی ویلیو مختلف اشیا کے لیے ایک خاص پیریڈ کے لیے ہونی چاہیے اس کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…