پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

حکومتی عہدہ، کامیاب سیاستدان، پرتعیش زندگی مگر زندگی میں کس چیز کی کمی ہے؟ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے زندگی کے سب سے بڑے پچھتاوے سے پردہ اٹھا دیا، کس خواہش کا اظہار کر دیا؟

datetime 5  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حکومتی عہدہ، کامیاب سیاستدان، پرتعیش زندگی مگر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے پاس ایسی کونسی چیز نہیں جس کا انہیں افسوس ہے، انٹرویو میں پہلی مرتبہ اپنا دل کھول کر رکھ دیا ، زندگی کا سب سے بڑے پچھتاوا بالآخر بتا دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عمر حیات کے صاحبزادے ہیں ۔ وہ آج پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ ہیں ،

عملی زندگی میں ایک نہایت کامیاب انسان اور جب سیاست میں قدم رکھا تو نہایت مدبر اور سنجیدہ سیاستدانوں میں جلد ہی اپنی شناخت بنا لی، ایک نہایت آرام دہ زندگی بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں دی تاہم زندگی میں ایک چیز کی کمی اور پچھتاوا ایسا ہے جس کا انہوں نے پہلی بار ذکر کیا ہے۔ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ”مجھے زندگی میں صرف ایک ہی افسوس ہے کہ میری کوئی بیٹی نہیں ہے اس کے علاوہ کوئی بھی پچھتاوا نہیں ہے ۔“انہوں نے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ میں ناکامی سے گھبراتا نہیں ہوں ، میرا نتائج پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ، میں درست ترجیحات اختیار کرتا ہوں ، سخت محنت کرتا ہوں اور دیانت داری سے فیصلے کرتاہوں اور اس کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں ۔ان کا کہناتھا کہ مجھ میں اعتماد بڑے رسک لینے ، سخت محنت کرنے اور بلاآخر حاصل ہونے والی کامیابی سے بڑھتا ہے ۔ اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ میں ناکامی سے گھبراتا نہیں ہوں ، میرا نتائج پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ، میں درست ترجیحات اختیار کرتا ہوں ، سخت محنت کرتا ہوں اور دیانت داری سے فیصلے کرتاہوں اور اس کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں ۔ان کا کہناتھا کہ مجھ میں اعتماد بڑے رسک لینے ، سخت محنت کرنے اور بلاآخر حاصل ہونے والی کامیابی سے بڑھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کو بھیک مانگنے کے ایک چکر سے نکال کر مستحکم ترقی کے راستے پر لانا چاہتا ہوں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…