ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں!! اگر سینئر رپورٹر نہ ہوتے تو۔۔۔ فیصل واوڈا کوپریس کانفرنس میں سینئر رپورٹر کیساتھ بدتمیزی کرنا مہنگاپڑ گیا صحافیوں نے عقل ٹھکانے لگا دی ، وفاقی وزیر کی معافیاں ، ترلے

datetime 2  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں، اب جیل سے ملزم اور مجرم آکر ہم سے سوالات کروں گا، پیر کو خط میری وزارت کو بھجوایا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ منگل کو پی اے سی میں پیش ہو کر جواب دیں، ایسا نہیں چلے گا، وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی پبلک اکائونٹس کمیٹی اور چیئرمین شہباز شریف پر تنقید،پریس کانفرنس کے دوران سینئر صحافی کیساتھ بدتمیزی کرنے پر

صحافیوں نے وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا ، فیصل واوڈا معافیاں مانگتے رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے آج پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے طرز عمل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کمیٹی اور اس کے چیئرمین شہباز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پیر کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے میری وزارت کو خط بھجوایا جاتا ہے کہ منگل کو پی اے سی میں پیش ہو کر جواب دیں، ایسا نہیں چلے گا میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں ، اب جیل سے ملزم اور مجرم آکر ہم سے سوالات کرینگے۔ وفاقی وزیر سے پریس کانفرنس کے دوران مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے حوالے سے عبدالرزاق دائود کی کمپنی ڈیسکون کے حوالے سے بھی سوالات کئے گئے۔ اس دوران نجی ٹی وی ڈان نیوز کے سینئر رپورٹر علی کیانی نے وفاقی وزیر سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی پارٹی حکومت پر تنقید کرتی رہی ہے اور اب اپوزیشن آپ پر تنقید کر رہی ہے جس پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا آپے سے باہر ہو گئے اور کہا کہ ڈان کے رپورٹر سے اسی قسم کے سوال کی توقع کر رہا تھا اگر آپ سینئر رپورٹر نہ ہوتے تو آپ کے سامنے سے مائیک اٹھوا دیتا جس پر صحافیوں نے فیصل واوڈا سے ان کے تبصرے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ فیصل واوڈا اس دوران معافی اور وضاحتیں دیتے رہے مگر صحافیوں نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے بائیکاٹ منسوخ نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…