منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

دھمکیوں کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جاسکتا ،چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کے صبر کا پیمانہ لبریز،بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2018 |

پشاور (این این آئی) چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ دھمکیوں کے ذریعے نیب کو خاموش نہیں کرایا جاسکتا ،اپنی پرفارمنس اور کارکردگی سے پروپیگنڈا مہم کا مقابلہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں،ہم چہرہ نہیں کیس دیکھتے ہیں ،میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ۔نیب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بدھ کو نیب خیبر پختونخوا کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب فرمان اللہ خان نے انہیں صوبے میں

زیر تحقیقات میگا کرپشن کیسز سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا۔اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے اور بیورو کی موجودہ قیادت نے میگا کرپشن کے مقدمات کو الماریوں اور فائلوں سے نکال کر ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے رواں سال بدعنوانی کے 440 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کیے جو زیر التوا ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کیخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چہرہ نہیں کیس دیکھتے ہیں اور اس کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے پر یقین رکھتے ہیں، خیبر پختونخوا میں بھی کرپشن کے مقدمات کو شفاف، میرٹ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ نیب کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے لیکن نیب اپنی پرفارمنس اور کارکردگی سے پروپیگنڈا مہم کا مقابلہ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کے ذریعے نیب کو خاموش نہیں کرایا جاسکتا، ہمارا ہر قدم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔ سرگودھا یونیورسٹی کے غیر قانونی کیمپسز کھولنے کے الزام میں گرفتار پروفیسر میاں جاوید کی موت بارے ایک بار پھر وضاحت کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ میاں جاوید کی موت نیب کی تحویل میں نہیں جوڈیشل کسٹڈی میں ہوئی ہے ، مگر اس کے باوجود دانستہ طور پر نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو قابل افسوس اور بیورو کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…