جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف اور آصف علی زرداری ماضی کا قصہ بن جائیںگے یا پھر زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئیںگے؟لیکن آج کے دن سے تین سوال ضرور پیدا ہوتے ہیں،کیا ملک کی دونوں جماعتوں کی قیادت کی سیاست آج سے ختم ہو گئی؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

احتساب کے بارے میں کہتے ہیں یہ مچھلیاں پکڑنے والا جال ہوتا ہے‘ یہ جال ہمیشہ بڑی مچھلیاں پکڑنے کیلئے بنایا جاتا ہے لیکن جب بھی کوئی بڑی مچھلی اس میں پھنستی ہے تو یہ جال کو توڑ کر نکل جاتی ہے یا پھر پورا جال لپیٹ کر ساتھ لے جاتی ہے جبکہ پیچھے رہ جاتی ہیں پروفیسر میاں جاوید جیسی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں‘ یہ چھوٹی مچھلیاں احتساب کے جال کی قیمت بھی پوری نہیں کر پاتیں اور یہ اکثر اوقات اپنی ہتھکڑی زدہ لاشوں کے ذریعے احتساب کے عمل کی بدنامی کا باعث بھی بن جاتی ہیں‘

حکومت کا کہنا ہے ہم نے آج ملک کی دو بڑی مچھلیوں کو احتساب کے جال میں پھانس لیا‘ میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید اور پونے چار ارب روپے جرمانے کی سزا ہو گئی جبکہ یہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیے گئے‘ آصف علی زرداری بھی چند دن بعد جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہو جائیں گے جس کے بعد جال اور مچھلیوں کی طاقت کا اندازہ ہو گا‘ یہ جال رہے گا یا پھر مچھلیاں۔ آج کا دن یقیناً آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا‘ یہ لوگ ماضی کا قصہ بن چکے ہیں یا پھر یہ زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آتے ہیں‘ یہ فیصلہ آنے والے سورج کریں گے لیکن آج کے دن سے تین سوال ضرور پیدا ہوتے ہیں‘ پہلا سوال لوٹی ہوئی دولت ہے‘ کیا ریاست سرے محل اور سوئس اکاؤنٹس کے برعکس اس بار یہ دولت واپس لا سکے گی‘ اگر ریاست یہ رقم لے آئی تو پھر احتساب کا عمل کامیاب ہو جائے گا ورنہ دوسری صورت میں یہ رقم بھی جائے گی اور ہم جیل میں بند لیڈروں کی حفاظت‘ میڈیکل اور فائیوسٹار آمدورفت پر قوم کے مزید دس بیس کروڑ روپے خرچ کر دیں گے اور یوں عوام کا احتساب سے یقین اٹھ جائے گا‘ دوسراسوال‘ کیا یہ احتساب صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ تک محدود رہے گا یا پھر حکمران اتحاد کے لوگ بھی اس جال میں پھنسیں گے‘ اگر حکمران اتحاد کے لوگ اقتدار میں اور اپوزیشن جیلوں میں رہے گی تو پھر بھی اس احتساب کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا  اگر حکمران باہر اور اپوزیشن اندر ہوگی تو بھی عوام احتساب پر یقین نہیں کریں گے اور تیسرا سوال اگر ریاست نے ایک بار پھر این آر او یا مفت تیل کے عوض ان لوگوں کو چھوڑ دیا تو پھر بھی لوگ احتساب کے لفظ سے نفرت کریں گے اور پھر یہ جال چھوٹی مچھلیوں اور ان کی ہتھکڑی زدہ لاشوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ کیا ملک کی دونوں جماعتوں کی قیادت کی سیاست آج سے ختم ہو گئی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ ہم آج کے فیصلوں کے چند پوشیدہ پہلوؤں پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…