ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

صہیونی عقوبت خانوں میں وحشی صفت صہیونی جلادوں کا بچوں پر ہولناک تشدد جاری، کلب برائے اسیران کی رپورٹ

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

رام اللہ (این این آئی)فلسطین میں اسیران کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے ادارے ’کلب برائے اسیران‘ کے مطابق صہیونی عقوبت خانوں میں وحشی صفت صہیونی جلادوں کا ہولناک تشدد جاری ہے، کلب نے تین بچوں کا احوال بیان کیا ہے جنہیں گرفتار کیے جانے کے وقت اور اس کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

کلب برائے اسیران کی مندوبہ جاکلین الفرارجہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 15 سالہ محمد صبیح کو الخضر قصبے سے حراست میں لیا۔18 دسمبر کو فجر کے وقت صہیونی فوج نے اسے گھر سے اٹھایا۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور لاتیں، گھونسے اور لاٹھیاں مارتے ہوئے ایک گاڑی میں ڈال کر ایک حراست مرکز میں لے گئے۔ اسے مسلسل مارتے مارتے ‘DCO’ نامی ایک چیک پوسٹ پرلیجایا گیا۔ اس کے بعد اسے پورا دن عتصیون نامی ایک حراستی مرکز میں سخت سردی میں نیم برہنہ ایک تاریک کوٹھڑی میں قید کیا گیا۔الفرارجہ نے بتایا کہ انہوں نے صبیح سے عتصیون جیل میں ملاقات کی۔ اس کے جسم اور چہرے پر تشدد کے نشانات ہیں جب کہ بایاں بازو بھی ٹوٹ چکا ہے۔الخضر قصبے کے 16 سالہ ھادی عذاب صلاح نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد پہلے اسے بھی اسرائیلی جلاد ‘DCO’ چیک پوسٹ پر لے گئے۔ اسے بھی شدید سردی میں کئی گھنٹے ایک لوہے کی کرسی پر باندھ کر رکھا گیا۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ وہاں پر انسانیت سوز تشدد کے بعد اسے بھی عتصیون حراستی مرکز میں ڈالا گیا۔ایک اور فلسطینی بچے 17 سالہ سعید ناجح عبدالرحمان نے بتایا کہ قابض فوج نے اسے 17 دسمبر کو سلفیت کے نواحی علاقے کفل حارس سے حراست میں لیا۔ گرفتاری کے وقت اس پر تشدد کا سلسلہ شروع ہوا جو مسلسل جاری رہا۔ حراستی مرکز میں لے جانے کے بعد صہیونی فوج نے اس پر مرچوں والے پانی کا چھڑکاؤ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…