جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

مصر کی قدیمی عدالت ’بشع‘ جہاں فیصلہ آگ کرتی ہے

datetime 19  دسمبر‬‮  2018 |

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے قبائلی علاقے اسماعیلیہ میں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ قدیمی عدالت بشع میں آگ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افریقی ملک مصر کے شمال مشرقی حصّے اسماعیلیہ میں ایک بدو نامی ایسا قبیلہ آباد جو اپنے معاملات جدجد نظام انصاف (موجودہ عدلیہ) کے پاس لے جانے کے بجائے دنیا کے قدیم نظام انصاف سے رجوع کرتا ہے۔ بدوؤں کے نظام انصاف

میں بشع ایک روائتی عدالت ہے جہاں آگ کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے، ملزم سلگتے ہوئے لوہے کو تین مرتبہ چاٹتا ہے اس کے بعد جج ملزم کی زبان کا معاینہ کرتا ہے اور زبان نہ جلنے پر ملزم کو بے قصور قرار دیا جاتا ہے جس کے بعد ملزم کو دوسرے فریق کے ساتھ صلح کرنی ہوتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بشع کا جج ہی جرمانے کا مجاز ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون سلگتے ہوئے لوہے کو چاٹ رہی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون کے شوہر نے اس پر دو سو ڈالر کی چوری کا الزام عائد کیا تھا، جس نے دھکتے ہوئے چمچے کو زبان سے چاٹا اور زبان نہ جلنے پر جج نے اسے بے گناہ قرار دیا۔ اویمپیئر عمیر عیاد بشع کے جج ہیں، انہوں نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس روایت کی ذمہ داری گذشتہ ڈھائی سو یا تین سو برسوں سے ان کے پاس ہے، عمیر کی چودہ پشتیں یہ ذمہ داری انجام دے چکی ہیں۔ اویمپیئر عمیر عیاد کو یقین ہے کہ وہ اپنی برادری کےلیے اہم ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بزرگوں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر یہ ذمہ داری انہیں سونپی تھی۔ اویمپیئر عمیر عیاد کا کہنا تھا کہ میں یہ کام کرتا رہوں گا، میں بے ایمانی نہیں کرسکتا، انصاف کا تقاضا کرنے والوں کےمطالبات ہوتے ہیں، مجھے بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ بشع کے نائب جج حمید عمیر کہتے ہیں کہ مصری لوگوں کو یقین ہے کہ یہ سچائی کا راستہ ہے، یہ جھوٹوں اور سچوں کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ پولیس کے بجائے ہمارے پاس آتے ہیں، پولیس سچ کی تلاش میں کئی ماہ لگاتی ہیں لیکن ہم سچ اور جھوٹ فوری فرق بتا دیتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دوسری جانب مصر میں ہی بشع کو فراڈ بھی قرار دیا جاتا ہے اور اس کی پریکٹس قابل جرم سزا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…