ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’اب والدین پیدائش سے پہلے بچے کی جنس معلوم نہیں کر سکیں گے ‘‘ پی ٹی آئی حکومت نے اسلامی اصولوں کے مطابق کونسا قانون لانے کا اعلان کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبے میں جنس کی بنیاد پر اسقاط حمل کے بڑھتے واقعات روکنے کے لیے قانون سازی کافیصلہ کر لیا،قانون بننے کے بعد والدین کو بچے کی جنس بتانا قانونی طور پر جرم ہو جائے گا،جینڈر امبیلنس کا خطرہ لا حق ہو سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے پیشِ نظر قانون سازی ضروری ہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے اسقاط حمل کے واقعات پر

قابو پانے کے لیے غور شروع کر دیا ہے، اس سلسلے میں صوبائی سطح پر قانون سازی کی جائے گی۔قانون سازی کے مطابق پیدائش سے پہلے والدین کو بچے کی جنس بتانے پر پابندی عائد ہوگی۔صوبائی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے اس سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ اب 3 ماہ سے بھی پہلے بچے کی جنس کا تعین ممکن ہو چکا ہے۔یاسمین راشد نے کہا کہ طب کے شعبے میں اس ایڈوانسمنٹ کے باعث بیٹوں کے خواہش مند والدین بیٹی کامعلوم ہوتے ہی اسقاط حمل کی کوشش کرتے ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہاکہ اس طرزِ عمل سے جینڈر امبیلنس کا خطرہ لا حق ہو سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے پیشِ نظر قانون سازی ضروری ہے۔صوبائی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے مزید بتایا کہ پنجاب میں اس سلسلے میں قانون سازی کے لیے بل لانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے، قانون بننے کے بعد والدین کو بچے کی جنس بتانا قانونی طور پر جرم ہو جائے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اعلان کیا ہے کہ صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے حاملہ خواتین کو الٹرا سائونڈ پر بچے کی جنس بتانے پر پابندی کا قانون لایا جائے گا تاکہ بچی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرانے کے قابل مذمت رجحان کا خاتمہ کیا جاسکے۔پنجاب حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ویمن‘ کے اشتراک سے ’صنفی تشدد کے خاتمے‘کے موضوع پر سیمینار سے

بطور مہمان خصوصی خطاب میں انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دوران حمل ہی بچے کی جنس معلوم کراتے ہیں اور بیٹا نہ ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرا لیتے ہیں۔ یاد رکھیں حضور اکرمؐ نے 1400 سال قبل بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی روایت کا خاتمہ کردیا ہے۔ اسلام خواتین کو برابر کے حقوق دیتا ہے،ہمیں اسلامی تعلیمات کا عملی نفاذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو زبردست الفاظ

میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ برملا خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ آج جس مقام پر ہیں وہ ان کی والدہ محترمہ کی وجہ سے ہے۔ ماں سے محبت کے ثبوت میں ہی انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال جیسا بین الاقوامی سطح کا ہسپتال تعمیر کرایا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے زور دیا کہ معاشرے میں خواتین کے حقوق کو اجاگر کئے بغیر استحکام نہیں آسکتا۔

خاتون پر تشدد سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ خاتون پر تشدد سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی خواتین محفوظ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا انعقاد خواتین کے تشدد کے خاتمے کے پنجاب حکومت کے عزم کا واضح اظہار ہے۔ وقت آگیا ہے کہ خواتین کو زیادہ بااختیار بنا کر پاکستانی معاشرے کو ترقی کی نئی سمت کی جانب گامزن کیا جائے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…