ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

فلسطینیوں اور مسلمانوں کے خلاف پوسٹ کرنا مہنگا پڑ گیا، فیس بک نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے کے اکاؤنٹ کو بند کر دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

یروشلم(نیوز ڈیسک) فیس بک انتظامیہ نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیٹے یائر کا اکانٹ عارضی طور پر بند کردیا۔پیر کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے نسل پرست وزیر اعظم نیتن یاہو کے بڑا بیٹا یائر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے سے باز نہ آیا،

یائر نے مسلمانوں کے خلاف زبان کو جنبش دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں اس وقت امن قائم ہوگا جب مسلمان یہاں سے جائیں گے۔نسل پرست یائر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عوام سے رائے مانگتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں اس وقت امن قائم ہوگا جب تمام یہودی یہاں سے چلے جائیں یا تمام مسلمان اسرائیل سے نکل جائیں۔اسرائیلی وزیر اعظم کے بیٹے نے شرانگیزی کرتے ہوئے کہا کہ میں دوسرے آپشن کا انتخاب کروں گا، تمام مسلمان اسرائیل سے چلے جائیں تاکہ یہاں امن قائم ہو۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے بیٹے کی جانب سے کی گئی شر انگیزی پر سخت رد عمل کے اظہار کے بعد فیس بک انتظامیہ نے پوسٹ ڈیلیٹ کردی۔نیتن یاہو کے بیٹے نے اپنی پوسٹ میں مزید تحریر کیا تھا کہ جاپان اور آئس لینڈ میں دہشت گردانہ کارروائیاں نہ ہونے کی وجہ وہاں مسلمانوں کی آبادی نہ ہونا ہے۔واضح رہے کہ یائر نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کی دل آزاری نہیں کی بلکہ وہ اس سے قبل بھی عوامی سطح پر مسلمانوں کی توہین کرچکا ہے۔ فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یائیر نیتن یاہو نے بہت سی ایسی پوسٹس کی ہیں جن میں نفرت انگیز بیان بھی شامل ہے اور یہ کمیونٹی سٹینڈرڈز کی خلاف ورزی ہے۔ فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس مواد کو ہمارے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ہے، ایسا مواد جو بھی پوسٹ کرے گا ہم ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی کریں گے، فیس بک ترجمان کا کہنا ہے کہ فیس بک اپنی پالیسی کا اطلاق کرتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…