پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے اہم سرکاری ادارے کی خلاف ضابطہ نجکاری کی تیاریاں تیزی سے جاری ،دو وفاقی وزراء سرگرم

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کے الیکٹرک کی خلاف ضابطہ نجکاری کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں،کے الیکٹرک نجکاری کے ذریعے شنگھائی الیکٹرک کو دینے کیلئے رازداری سے دو وفاقی وزراء نے کام کیا۔کے الیکٹرک کی نجکاری کیلئے ابوظہبی میں فراڈ کے الزام میں جیل جانے والے عارف نقوی کی وزیراعظم عمران خان سے دو ملاقاتیں بھی کروا دی گئیں۔

ڈپٹی آڈیٹر جنرل نے کے الیکٹرک کی خلاف ضابطہ نجکاری پر اختلافی نوٹ تحریر کردیا۔نجکاری کا کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ڈپٹی آڈیٹر جنرل کا نوٹ بھی فائل سے خفیہ ہاتھوں نے غائب کر دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ اسد عمر اور وفاقی وزیر برائے ٹیکسٹائل وکامرس رزاق داؤد کی توجہ آجکل کے الیکٹرک کی نجکاری پر مرکوز ہے۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے لئے اے براج ہولڈنگ گروپ کے عارف نقوی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں وفاقی وزراء نے عارف نقوی کی وزیراعظم سے دو ملاقاتیں بھی کروا دی ہیں۔عارف نقوی وہ شخص ہے جس پر امریکہ میں ہیلتھ فنڈ ریزنگ میں گھپلوں کے الزامات کے ساتھ ساتھ ابوظہبی میں مائیکرو سوفٹ سرمایہ کاری میں ہیر پھیر کا الزام تھا جس پر اسے جیل بھیج دیا گیا تاہم ابھی وہ ضمانت پر رہا ہوئے ہیں اور مقدمہ زیر سماعت ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر ٹیکسٹائل وکامرس رزاق داؤد کی خصوصی شفقت سے شنگھائی الیکٹرک کے عہدیداروں کی وزیراعظم سے ملاقات کروائی گئی تو عارف نقوی کو اس میٹنگ میں مرکزی اہمیت حاصل تھی۔اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس میں نجکاری کمیشن کے لوگوں اور وزارت پانی وبجلی کے افسروں کو بھی شامل کیا گیا۔وفاقی وزیر رزاق داؤد نے اس کمیٹی کی سربراہی کی اور اسکے اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔

قانون کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایسی کسی کمیٹی کارکن نہیں بن سکتا کیونکہ کئی محکموں کے آڈٹ کی ذمہ داری آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ہوتی ہے۔مذکورہ میٹنگ کی کارروائی میں ڈپٹی آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے تحریری طور پر نوٹ لکھا کہ ہم اس کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ ہم کے الیکٹرک سمیت کئی محکموں کا آڈٹ کر رہے ہیں۔کے الیکٹرک کے معاملات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں بھی پائی

جاچکی ہیں جبکہ کے الیکٹرک ،ایس این جی پی ایل کے یہ نادہندہ بھی ہیں۔حیرت انگیز طور پر ڈپٹی آڈیٹر جنرل کے ریمارکس کو فائل سے غائب کردیاگیا۔وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی انہیں اصل صورتحال بتانے کی بجائے پر اپنے پاکستان والی وارداتوں کیلئے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔نجکاری کے نام پر ہونے والی یہ ڈیل عارف نقوی کے ماضی کے باعث پی ٹی آئی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…