ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

’’صبر کرو! آ رہا ہوں!‘‘ امریکہ میں اشتہاری ملزم نے پولیس کی جانب سے فیس بک پر دیے اپنے ہی انتہائی مطلوب کے اشتہار پر کومنٹ کرکے انٹرنیٹ پر میلہ لوٹ لیا، دیکھئے اسکی پولیس سے کیا بات چیت ہوئی؟

datetime 9  دسمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) پہلے زمانہ میں مجرم کو پکڑنا اور اس تک رسائی ایک مشکل امر ہوتا تھا لیکن اب سائنس اور ٹیکنالوجی نے اس کو بہت ہی آسان بنا دیا ہے خصوصاً اس ٹیکنالوجی سے مغربی ممالک بہت کام لے رہے ہیں، ایسا ہی ایک واقعہ امریکہ میں پیش آیا،

جس میں پولیس نے فیس بک پر ملزم ہونے کا اشتہار دیا، اس میں کہا گیا کہ پیارے انتھونی ، یہ ہم ہیں، گزشتہ بدھ سے آپ ہمیں مطلوب ہیں، آپ نے جواب دیا کہ آپ خود کو بدل رہے ہو، ہم انتظار کر رہے ہیں لیکن تم نے ایسا کچھ نہیں کیا، اب تم ہمارے سامنے کھڑے ہوگئے جس پر ہمیں دوبارہ رابطہ کرنا پڑا، ہم نے آپ کو ایک سواری کی پیشکش کی، جس پر آپ نے مزید 48 گھنٹے مانگ لیے، ہفتے کا آخر آیا اور گزر گیا، ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ تم نہیں آ رہے، مہربانی کرکے کسی بھی وقت ہمیں کال کریں ہم آپ کے پاس آ جائیں گے۔ اس کے بعد پولیس والوں نے اپنا نمبر بھی دیا، اس کے جواب میں اس شخص نے لکھا کہ یہ آپ نہیں میں ہوں، میں مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہوں ، آپ سے معذرت چاہتا ہوں، کل میں لنچ ٹائم کے بعد وہاں نہیں تھا، مجھے امید ہے جو کچھ میں نے کیا، آپ مجھ پر یقین نہیں کریں گے، لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ کل لنچ ٹائم کے وقت میں آپ کو سواری کے لیے کال کروں گا تاکہ آپ مجھے سمجھا سکیں، آپ کا پیشگی شکریہ کہ آپ مجھے ایک اور موقع فراہم کر رہے ہیں، میں جانتا ہوں میں اس کے قابل نہیں ہوں۔اس کی اس گفتگو نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی اور لوگوں نے اس پر طرح طرح کے کومنٹ کیے۔  پہلے زمانہ میں مجرم کو پکڑنا اور اس تک رسائی ایک مشکل امر ہوتا تھا لیکن اب سائنس اور ٹیکنالوجی نے اس کو بہت ہی آسان بنا دیا ہے خصوصاً اس ٹیکنالوجی سے مغربی ممالک بہت کام لے رہے ہیں

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…