منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

علیمہ خان کی جائیداد کے معاملے پر احتساب کے نظام کو سانپ سونگھ گیا ہے، اسفندیار ولی خان نے کھری کھری سنادیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی بے نامی جائیداد اور جرمانہ ادا کرکے جرم کے اعتراف پر کہا ہے کہ ملک میں احتساب گھر کی لونڈی بن چکا ہے اور اسے صرف سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ولی باغ چارسدہ میں رکنیت سازی فارم پُر کرنے کے بعد نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتساب کی گردان کرنے والے علیمہ خان کی بے نامی اربوں روپے کی جائیداد کے معاملے میں مصلحت سے کام لے رہے ہیں

جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ ملک میں احتساب صرف سیاسی مخالفین کیلئے ہے ،اسفندیار ولی خان نے اس موقع پر خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے اور سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام افراد اور اداروں کا بلا تفریق احتساب ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر حسن نواز اور حسین نواز کی چھان بین کیلئے جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو علیمہ خان کیلئے جے آئی ٹی کی راہ میں کون سی رکاوٹ ہے، پانامہ میں شامل چار سو سے زائد شخصیات کو پس پشت ڈال کر اقتدار پر قبضے کیلئے صرف ایک شخص کو ٹارگٹ کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں بیشتر افراد نیب زدہ جبکہ بہت سے نیب زادے بھی ہیں اور حکومت انہی لوگوں کے گرد گھوم رہی ہے، عمران خان سو دن میں ایکسپوز ہو گئے ہیں اور اب انہیں بھاگنے نہیں دیں گے ، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے ، انہوں نے کہا کہ ناکام اور مسلط کردہ حکومت نے سو دن میں ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے اور ملک کو تاریخ کی بدترین معاشی صورتحال کا سامنا ہے، مرکزی صدر نے مزید کہا کہ FATFکی طرف سے ملنے والی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے تاہم اس حوالے سے جو شرائط پیش کی گئیں وہ حکومت کی ترجیح میں نہیں رہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی شرائط تسلیم نہ کی گئیں تو ملک جلد ایتھوپیا بن جائے گا ، اسفندیار ولی خان نے چیلنج کیا کہ اگر کپتان میں ہمت ہے تو مجھے نیب کے سامنے پیش کریں اور جو الزامات مجھ پر لگائے گئے انہیں ثابت کریں،

موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے بارے میں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ عمران خان کا افغانستان کے حوالے سے آج کا بیانیہ چالیس برسوں سے ہمارے اکابرین کی پیشگوئیوں کی تائید ہے، جب باچا خان اور ولی خان نے افغان جنگ کو فساد قرار دیا تو اس وقت کی ابن الوقت جماعتوں نے ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے ،انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا ہمارے اکابرین کی باتوں اور ان کی پالیسیوں سے متفق ہے ، افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کی کنجی تمام سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے اور صدق دل سے امن عمل کو آگے بڑھایا جائے تو خطے میں دیرپا امن کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…