بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

علیمہ خان کی جائیداد کے معاملے پر احتساب کے نظام کو سانپ سونگھ گیا ہے، اسفندیار ولی خان نے کھری کھری سنادیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی بے نامی جائیداد اور جرمانہ ادا کرکے جرم کے اعتراف پر کہا ہے کہ ملک میں احتساب گھر کی لونڈی بن چکا ہے اور اسے صرف سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ولی باغ چارسدہ میں رکنیت سازی فارم پُر کرنے کے بعد نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتساب کی گردان کرنے والے علیمہ خان کی بے نامی اربوں روپے کی جائیداد کے معاملے میں مصلحت سے کام لے رہے ہیں

جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ ملک میں احتساب صرف سیاسی مخالفین کیلئے ہے ،اسفندیار ولی خان نے اس موقع پر خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے اور سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام افراد اور اداروں کا بلا تفریق احتساب ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر حسن نواز اور حسین نواز کی چھان بین کیلئے جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو علیمہ خان کیلئے جے آئی ٹی کی راہ میں کون سی رکاوٹ ہے، پانامہ میں شامل چار سو سے زائد شخصیات کو پس پشت ڈال کر اقتدار پر قبضے کیلئے صرف ایک شخص کو ٹارگٹ کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں بیشتر افراد نیب زدہ جبکہ بہت سے نیب زادے بھی ہیں اور حکومت انہی لوگوں کے گرد گھوم رہی ہے، عمران خان سو دن میں ایکسپوز ہو گئے ہیں اور اب انہیں بھاگنے نہیں دیں گے ، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے ، انہوں نے کہا کہ ناکام اور مسلط کردہ حکومت نے سو دن میں ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے اور ملک کو تاریخ کی بدترین معاشی صورتحال کا سامنا ہے، مرکزی صدر نے مزید کہا کہ FATFکی طرف سے ملنے والی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے تاہم اس حوالے سے جو شرائط پیش کی گئیں وہ حکومت کی ترجیح میں نہیں رہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی شرائط تسلیم نہ کی گئیں تو ملک جلد ایتھوپیا بن جائے گا ، اسفندیار ولی خان نے چیلنج کیا کہ اگر کپتان میں ہمت ہے تو مجھے نیب کے سامنے پیش کریں اور جو الزامات مجھ پر لگائے گئے انہیں ثابت کریں،

موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے بارے میں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ عمران خان کا افغانستان کے حوالے سے آج کا بیانیہ چالیس برسوں سے ہمارے اکابرین کی پیشگوئیوں کی تائید ہے، جب باچا خان اور ولی خان نے افغان جنگ کو فساد قرار دیا تو اس وقت کی ابن الوقت جماعتوں نے ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے ،انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا ہمارے اکابرین کی باتوں اور ان کی پالیسیوں سے متفق ہے ، افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کی کنجی تمام سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے اور صدق دل سے امن عمل کو آگے بڑھایا جائے تو خطے میں دیرپا امن کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…