بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

حکومت کاسی پیک کامغربی روٹ پہلے مکمل کرنے کا فیصلہ، یہ روٹ پشاور ،ڈی آئی خان سمیت کن اہم علاقوں سے گزرے گا؟تفصیلات جاری

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کے ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی روٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہے اور اسے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ وزارت کے ترجمان نے وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات سے منسوب میڈیا کے ایک حصے میں شائع ہونے والے آرٹیکل جس کا عنوان ’’مغربی روٹ سی پیک کا حصہ نہیں ہے‘‘ کو مکمل بے

بنیاد اور غلط قرار دیا اور کہا کہ غلط طریقے سے اسے وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے متعدد بار کہا ہے کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہے اور مغربی روٹ پر چینی فنانسنگ کے لئے کام ہو رہا ہے، منصوبے ڈی آئی خان (یارک)۔ ژوب فیز I (210 کلومیٹر) یہ جوائنٹ کاپوریشن کمیٹی کے اجلاس جو کہ رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں منعقد ہو گا، میں اس پر بات کی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ سی پیک کے منظور شدہ منصوبے کے مطابق مغربی روٹ پشاور۔ برہان/ہکلہ، یارک/ڈی آئی خان۔ مغل کوٹ۔ ژوب۔ کوئٹہ۔ سہراب۔ بسیمہ۔ ہوشاب اور گوادر کے حصے پر مشتمل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہکلہ ڈی آئی خان حصے پر تعمیراتی کام جاری ہے اور منصوبے کے مطابق 2019ء میں مکمل ہو گا۔ ڈی آئی خان ژوب حصہ کی مغربی منسلکی کی ایکنک اپریل 2017ء میں منظوری ہو چکی ہے جس کے لئے فنانسنگ کے طریقہ کار پر غور و خوض جاری ہے۔ دیگر دو باقی ماندہ حصے ژوب۔ کچلاک/کوئٹہ اور کوئٹہ تا سہراب فزیبلٹی سٹڈی کے مراحل میں ہیں۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ حکومت کم ترقی یافتہ علاقوں کی سماجی، معاشی ترقی کے لئے پرعزم ہے اور ان علاقوں کی ترقی اور غربت کے خاتمے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ سی پیک کے تحت بلوچستان میں متعدد ترقیاتی اقدامات منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے مختلف مراحل میں ہے۔

خضدار۔بسیمہ این 30 روڈ، نوکنڈی، مشخیل، پنجگور روڈ کی ایم 8 اور این 85 سے منسلکی، کوئٹہ واٹر سپلائی سکیم (پیٹ فیڈر کینال سے)، کوئٹہ ماس ٹرانزٹ سسٹم، بوستان انڈسٹریل زون، 1320 میگاواٹ کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا حب منصوبہ، 330 میگاواٹ گوادر پاور منصوبہ، گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، بریک واٹرز کی تعمیر، برتھ اور چینلز کی کھدائی، فری زون کے لئے بنیادی ڈھانچہ اور ای پی زونز کے بندرگاہ سے متعلقہ صنعتوں، تازہ پانی کی ٹریٹمنٹ اور سپلائی کیلئے ضروری سہولیات،

گوادر میں پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال کا قیام، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور گوادر سمارٹ پورٹ سٹی پلان ان منصوبوں میں شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مزید برآں موجودہ حکومت گوادر کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے، گوادر کو بلیو اکانومی کے اصولوں کے تحت ترجیح رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر آئل سٹی کے قیام کے لئے غور و خوض جاری ہے جس کا مقصد ریفائنڈ تیل کی درآمدات کے متبادل کے ساتھ خام تیل کی درآمد، ایکوا کلچر اور سی فوڈ کے لئے ماہی گیری کے فروغ کے علاوہ ساحلی علاقوں کی ترقی، ساحلی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…