منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پیمراکا 17 ٹی وی چینلز کو وزیراعظم سے متعلق جھوٹی خبر چلانے پر اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری ، سات یوم میں جوابدہی کا حکم

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سترہ د نیوز چینلز کو وزیراعظم پاکستان عمران خان سے متعلق جھوٹی خبر نشر کرنے پراظہارِوجوہ کے نوٹسز جاری کر دیئے۔ تمام نیوز چینلز نے وزیراعظم عمران خان کی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے ملاقات کی خبرنشر کی۔ ان چینلز میں آج نیوز، ، بول نیوز، 7نیوز، میٹرو1، ہم نیوز، اے آر وائی نیوز، سماء، پبلک نیوز جی این این اور K21نیوز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ جھوٹی خبر نشر کرنا پیمرا قوانین بشمول پروگرام و ایڈورٹائزنگ ضابطۂ اخلاق 2015ء کی بھی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلہ میں اتھارٹی متعدد بار تمام ٹی وی چینلز کو تنبیہہ جاری کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں متعدد چینلز کو جھوٹی، بے بنیاد اور من گھڑت خبر نشر کرنے پر جرمانے بھی ہو چکے ہیں۔ نیوز چینلزاس بات کے پابند ہیں کہ کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں ۔ تاہم مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ نیوز چینلز آگے بڑھنے کی دوڑ کسی بھی چینل پر چلنے والی بریکنگ نیوز کومن و عن بغیر تصدیق کئے اپنے مذکورہ چینلز پر نشر کر دیتے ہیں۔ اتھارٹی کے متعددبار نوٹسز اور جرمانہ کے باوجود غیر تصدیق شدہ خبروں کی نشریات ٹی وی چینلز پر معمول بن چکا ہے۔ تمام ٹی وی چینلز اس طور کی خبروں کی وجہ سے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا احسن انداز سے پیش کرنے سے قاصر ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹی خبرکو بریکنگ نیوز بنا کر ناظرین میں ہیجان اور بے یقینی کی فضا کو تقویت دیتے ہیں۔ پیمرا قوانین کے تحت نشریات میں درست اور سچی خبریں دینا چینل مالکان کی اولین ذمہ داری ہے ۔ اس کے حصول کیلئے ادارہ جاتی نگران کمیٹیوں کی تشکیل لازمی ہے۔ علاوہ ازیں کسی بھی صحافتی اصول سے رُوگردانی اور غلطی کو روکنے کیلئے مناسب ٹائم ڈیلے میکنزم کی تنصیب بھی نشریات کا لازمی جزوہے

تاہم پیمرا کی متعدد باریادہانی کے باوجود بھی چینلز مالکان ادارہ جاتی کنٹرول کو یقینی بنانے کیلئے خاطر خواہ انتظام کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے آئے روز من گھڑت، جھوٹی اور بے بنیاد خبریں نشریات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پیمرا نے تمام چینلز کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کرتے ہوئے سات یوم کے اندر جوابدہی کا حکم دیاہے۔ مقررہ وقت میں جواب نہ ملنے کی صورت میں تمام چینلز کے خلاف پیمرا قوانین کے تحت یکطرفہ کاروئی عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…