منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

گناہ ٹیکس لگاکر اسلامی تاریخ سے انحراف اور مذہبی اقدار کامذاق اڑانے کی مزموم کوشش،معروف عالم دین نے حکومت کو انتباہ کردیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی )امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہاہے کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب گناہ ٹیکس لگاکر اسلامی تاریخ سے انحراف اور مذہبی اقدار کامذاق اڑارہے ہیں۔گناہوں کو روکاجاتا ہے کجایہ کہ ان پر ٹیکس لگاکرانہیں جائزقراردے دیاجائے،یہ اسلامی روح کے منافی اقدام ہے۔

اس قسم کی اصطلاح استعمال کرکے دینی تصور کوکچل دیاگیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔حکومت وقت معاشرتی برائیوں کوجڑ سے ختم کرنے کے لیے اقدامات ضرور کرے مگر گناہ ٹیکس جیسی اصطلاح کااستعمال کرکے مذہبی عقائد کومجروح نہ کرے۔اس قسم کے اقدام سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ کابینہ کمیٹی برائے توانا ئی کے اجلاس میں ایل پی جی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کافیصلہ کیاگیا تھامگرذمینی حقائق یہ ہیں کہ امپورٹرز نے گیس ذخیرہ کرکے مصنوعی قلت اور ایل پی جی کی قیمتوں میں فی کلو20روپے تک خودساختہ اضافہ کردیا ہے جس سے گھریلوسلنڈر میں250روپے اور کمرشل سلنڈر 1000روپے تک بڑھ گئے ہیں۔عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔حکومت اپنی رٹ کو قائم رکھنے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور دیگر اداروں کو فعال کرے۔ملک وقوم کوکمیشن مافیا کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ قومی ایئر لائن میں گزشتہ10برسوں میں134ارب روپے کی کرپشن لمحہ فکریہ ہے۔منافع بخش ادارے کرپٹ عناصر کوکھلی چھٹی دینے کی وجہ سے شدیدخسارے کاشکار ہیں اور یہ قومی خزانے پر سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔امیر العظیم نے مزیدکہاکہ سرکاری اداروں سے کالی بھیڑوں کو باہرنکال کر میرٹ پر افراد کوتعینات کیاجائے۔اقرباپروری نے اور نااہل افراد کو اہم عہدوں پر فائز کرنے کی وجہ سے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…