ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں، آپ خود منصف بن جائیں، چیف جسٹس نے نوازشریف کے خلاف کیس میں انکو ایسی آفرکر دی کہ سب حیران رہ گئے

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکپتن اراضی کیس کی سماعت، نواز شریف ذاتی حیثیت میں چیف جسٹس کے سامنے پیش، چیف جسٹس نے معاملے کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی ادارےکے انتخاب کا اختیار نواز شریف کو دے دیا، انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں، آپ خود منصف بن جائیں، ایک ہفتے میں بتادیں کس ادارے سے

تحقیق کرائیں، چیف جسٹس کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکپتن اراضی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور نواز شریف کے دوران مکالمہ ہوا ہے اور چیف جسٹس نے معاملے کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی ادارے کے انتخاب کا اختیار نوز شریف کو دے دیا ہے۔ نواز شریف آج چیف جسٹس کی عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ اوقاف کی زمین کے دعوے داروں نے کیس کیا، ہائیکورٹ نے بھی قراردیا کہ زمین محکمہ اوقاف کی ہے، آپ کو نوٹی فکیشن نہیں سمری منظور کرنا تھی، تاثر یہی ملے گا کہ نوٹی فکیشن آپ کی منظوری سے جاری ہوا۔ نواز شریف نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی نوٹی فکیشن نہیں، نوٹی فکیشن کا نمبر غلط ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا، میراخیال ہے نچلی سطح پر کوئی گڑبڑ ہوئی ہے، شاید سیکرٹری اوقاف نےاختیارات کے تحت 1971 کے نوٹی فکیشن کو ڈی نوٹیفائی کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بڑی قیمتی زمین تھی، سوال نوٹی فکیشن کے نمبر کا نہیں، سیکرٹری اوقاف کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں، کیا محکمہ اوقاف کے ساتھ فراڈ ہوا ہے، ایک ایسی چیز آگئی ہے جس کی تحقیق کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ 2 بار کے وزیراعلیٰ اور 3 بار کے وزیراعظم کلیئر ہوں، پولیس، نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن یا جے آئی ٹی میں سے کس سے تحقیق کرائیں؟

۔نواز شریف نے کہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں میں اس سے اتفاق کرتا ہوں، تحقیقات پر کوئی حرج نہیں لیکن میرا جے آئی ٹی کا تجربہ اچھا نہیں، کسی اور سے انکوائری کرالیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں، آپ خود منصف بن جائیں۔ نواز شریف ایک ہفتے میں بتادیں کس ادارے سے تحقیق کرائیں۔عدالت نے پاکپتن اراضی کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی جب کہ نوازشریف کو آئندہ حاضری سے استشنی دے دیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے 2015 میں دربار اراضی پر دکانوں کی تعمیر کا از خود نوٹس لیا تھا، نواز شریف پر 1985 میں بطور وزیر اعلیٰ اوقاف کی زمین واپسی کا نوٹی فکیشن واپس لینے کا الزام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…