ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

چینی قونصل خانے پر حملے کے دوران کماندو ایکشن میں نظر آنے والے وفاقی وزیرفیصل واوڈا خود پر تنقید کرنے والوں کیخلاف برس پڑے،وجہ بتادی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) چینی قونصل خانے پر حملے کے دوران کماندو ایکشن میں نظر آنے والے وفاقی وزیرفیصل واوڈا خود پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کھل کربرس پڑے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹرپیغام میں انہوں نے کہاکہ اپنے دفاع میں لائسنس یافتہ استعمال کرنا میراحق ہے۔ جنہیں میرے وہاں ہونے سے مسئلہ تھا ، میری جانب سے وہ جہنم میں جائیں۔

گزشتہ روز چینی قونصلیٹ پر حملے کی اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کی دبنگ انٹری کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔نائن ایم ایم کی پستول کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے فیصل واوڈا نے پہنچتے ہی بلٹ پروف جیکٹ پہنی تھی۔مشہور زمانہ فلم ریمبو کے کمانڈر کی یاد تازہ کرنے والے واوڈا سوشل میڈیا صارفین کیلئے دلچسپ موضوع بن گئے جس پر انہوں نے رنگا رنگ تبصرے کیے۔صارفین کے تبصروں کا نچوڑ یہ تھا کہ فیصل واوڈا کا جذبہ حب الوطنی قابل ستائش ہے لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ بطوروفاقی وزیربرائے آبی وسائل ان کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے سے متعلق اقدامات بروئے کار لائیں کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔شدید تنقید پراپنے ردعمل میں فیصل واوڈا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ میں اسی علاقے میں تھا جب مجھے اطلاع ملی جس کے بعد میں نے متعلقہ اداروں کو بھی اطلاع دی ۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں دورنہیں بھاگا، اپنے دفاع میں لائسنس یافتہ استعمال کرنا میراحق ہے۔ کم از کم میں کی بورڈز کے پیچھے چھپنے اور لغویات بکنے والے بہت سے بزدل افراد کی طرح نہیں ہوں۔ایک اور ٹویٹ میں فیصل واوڈا نے لکھا کہ میں تمام لفافہ صحافیوں اور سوشل میڈیا کے بزدلوں کو جانتا ہوں جن کا کام صرف تنقید کر کے دبکے رہنا ہے۔ بطور وفاقی وزیر یہ میرا کام تھا کہ میں وفاقی ایجنسیوں کی مدد کرتا۔ جب وطن کو ضرورت ہو تو میں بھاگتا نہیں ہوں، جنہیں میرے وہاں ہونے سے مسئلہ تھا ، میری جانب سے وہ جہنم میں جائیں۔فیصل واوڈا نے تنقید کرنے والوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ کم از کم میں آپریشن کے آغاز سے اختتام تک وہاں موجود تو تھا، کیا وہاں کوئی میڈیا رپورٹر تھا؟ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…