اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جسم میں آئرن کی کمی کو دور کرنے کےلئے باجرہ تیار

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) خوراک کے ماہرین نے باجرے کی ایک ایسی خاص قسم تیار کی ہے جو انسانی صحت کے لئے انتہائی اہم سمجھے جانے والے غذائی جزو فولاد سے بھرپور ہے اور اس کے استعمال سے بھارت میں آئرن کی کمی کے شکار سکول جانے والے بچوں میں چھ مہینے کے اندر فولاد کی کمی دور کرنے کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یہ تحقیق جو ‘جرنل آف نیو ٹریشن’ میں شائع ہوئی ہے، روایتی خوراک کو بائیو فورٹیفیکیشن کے ذریعے غذائی اجزاءسے بھرپور بنانے والے ایک عالمی پروگرام، ہارویسٹ پلس کے زیر انتظام کی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق، فولاد سے بھرپور خاص طور پر تیار کئے گئے باجرے کی ایک خاص روٹی سکول جانے کی عمر کے 12 سے 16 سالہ بچوں کو چھ مہینے تک استعمال کرانے کے بعد بچوں میں آئرن کی کمی دور ہو گئی۔ یہ نتائج ان بچوں میں دیکھنے میں نہیں آئے جو اس مخصوص غذائی جزو پر مبنی خوراک نہیں کھا رہے تھے۔ امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی میں ماں اور بچے کی غذائی ضروریات کے شعبے کی پروفیسر کے مطابق، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی ہے، ‘سکول جانے کی عمر کے 40 فیصد بچے، اس تحقیق کے وقت آئرن کی کمی کا شکار تھے۔ اور اب ہمارے پاس اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ فولاد سے بھرپور بائیو فورٹیفائیڈ باجرے پر مبنی خوراک کے استعمال سے سکول جانے کی عمر کے بچوں میں آئرن کی کمی دور ہو گئی ہے’۔ ایسی ہی ایک تحقیق پاکستان میں زنک یا جست سے بھرپور گیہوں پیدا کرنے کے لئے کی جا رہی ہے۔ ہارویسٹ پلس کے غذائیت کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ایرک بوائے کے مطابق، ‘یہ پہلی تحقیق ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ ایسی خوراک جس میں قدرتی طور پر فولاد کی بھرپور مقدار موجود ہو، جسم میں آئرن کی کمی اتنی جلد دور کر سکتی ہے۔ اس باجرے میں شامل فولاد کے اجزا ویسے ہی ہیں، جیسے آئرن کی کمی دور کرنے والے سپلیمنٹس یا کیپسولز میں ہوتے ہیں’۔ اس سے قبل، بھارت میں ایسی ہی ایک تحقیق تین سال سے کم عمر بچوں پر کی گئی تھی۔ جن کی خوراک میں فولاد کے معدنی جزو سے بھرپور باجرہ شامل کرنے سے ان کی آئرن کی تمام ضروریات پوری ہو گئی تھیں۔ باجرہ، بھارت اور براعظم افریقہ میں روایتی خوراک کا حصہ ہے۔ بھارت میں ایک اندازے کے مطابق پچاس ملین، جبکہ افریقی ملکوں میں کئی ملین انسان باجرہ روزانہ اپنی خوراک میں استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین خوراک اسے دنیا بھر میں زرعی شعبے کے لئے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں جس سے خوراک کو بہتر غذائی اجزائ سے بھرپور اور صحت کے لئے مفید بنانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…