پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

تیل ، گیس ، سونا اور دیگر معدنیات تو رہیں ایک طرف گوادر کے سمندر سے ایسی قیمتی چیز نکل آئی کہ جس نے دیکھا دنگ رہ گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کو رب تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، معدنیات ہوں یا زراعت، موسم ہوں یا پانی، سمندر ہوں یا صحرا، میدان ہوں یا پہاڑ وطن عزیز ہر طرح کی نعمتوں سے بھرا پڑا ہے جبکہ دنیا کے متعدد ممالک ان نعمتوں سے محروم ہیں۔ معدنی اعتبار سے پاکستان میں جہاں ایک طرف گیس ، تیل ، کوئلے اور دیگر معدنی دولت کے ذخائر موجود ہیں

وہیں قدرت نے پاکستان کو دیگر ذرائع سے بھی نواز رکھا ہے، بلوچستان کے پہاڑ ہوں یا سمندر سونا اگل رہے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو بہتر انداز میں ملکی و عوامی فلاح و بہبود کیلئے صرف کیا جائے۔ حال ہی میں گوادر کے قریب پشکان کے ساحل سے ایسی نایاب مچھلی پکڑی گئی ہے جس مچھلی کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں لاکھوں روپے ہے۔ اس ایک مچھلی کی قیمت 11لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ Sowaاور Kirکے نام سے مشہور یہ مچھلی گوادر کے قریب پشکان کے ساحل سمندر سے مقامی ماہی گیروں نے دو روز قبل پکڑی تھی۔ پشکان کے سمندر سے پکڑی گئی مچھلی کا وزن تقریباً 41 کلو گرام ہے، یہ مچھلی اپنے سینے اور معدے میں پائے جانے والے ایک خاص مادے کی وجہ سے نایاب سمجھی جاتی ہے جو کہ جراحی کے لیے مخصوص ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق پشکان کے ساحل سے پکڑی جانے والی مچھلی کراچی کی ایک فشنگ کمپنی نے گوادر جیٹی پر نیلامی میں خریدی۔یہ مچھلی گوادر جیٹی پر تقریباً 11 لاکھ 48 ہزار روپے میں نیلام ہوئی ہے۔ماہی گیری ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مچھلی اس لیے نایاب ہے کہ یہ ماہی گیروں کے جال میں شاذو نادر ہی پھنستی ہے۔موجودہ سیزن میں یہ مچھلی انڈے دینے ساحل پر آتی ہے تو ماہی گیروں کے جال میں پھنس جاتی ہے۔گزشتہ سال بھی اسی نسل کی 10 سے زائد مچھلیاں پکڑی گئی تھیں جو بعد میں لاکھوں روپوں میں نیلام ہوئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…