اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کب اور کہاں اداکی جائے گی،اعلان کردیاگیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

راولپنڈی(نیوزڈیسک)مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کب اور کہاں اداکی جائے گی،اعلان کردیاگیا، تفصیلات کے مطابق معروف عالم دین اور عالمی رہنما مولانا سمیع الحق کو قاتلانہ حملے میں شہید کردیاگیا ہے مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کے بارے میں نجی ٹی وی ’’سما نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کل بروز ہفتہ دوپہر دو بجے اکوڑہ خٹک میں اداکی جائے گی اور انہیں اکوڑہ خٹک میں ہی سپرد خاک کیاجائے گا ،

نماز جنازہ کے بارے میں تاحال مولانا سمیع الحق کے خاندان کی جانب سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، دریں اثناء نجی ٹی وی کیپیٹل نیوزنے پولیس رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کو شہید کرنے والے حملہ آور وں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور وہ لوگ پہلے بھی مولانا سمیع الحق سے ملنے کے لئے آتے رہے ہیں حملہ آور موٹرسائیکل پر آئے ، پولیس رپورٹ کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا لگتا ہے ۔دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ جب مولانا سمیع الحق پر حملہ کیاگیا تو اس وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا، واردات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی پلاننگ کے ساتھ یہ حملہ کیاگیا ہے ، حساس اداروں نے اس سلسلے میں تفتیش شروع کردی ہے اور جلد ہی مزید انکشافات کی توقع ہے۔مولانا حامد الحق نے کہا کہ میرے والد کی شہادت کے پیچھے بین الاقوامی طاقتیں ہی ہوسکتی ہیں انہی طاقتوں نے مولانا سمیع الحق کو شہید کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کو افغان حکومت کی جانب سے خطرات تھے۔جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں، مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا سمیع الحق پر گھر پر حملہ کیاگیا ، چاقو سے کئی وار کئے گئے، واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی کردیاگیا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیاجارہاتھا کہ وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

مولانا سمیع الحق پاکستان کے نامور علماء کرام میں شمار کئے جاتے تھے ان کی شہادت پاکستان کے لئے ایک عظیم نقصان قرار دی جارہی ہے۔مولانا حامد الحق نے کہا کہ مولانا سمیع الحق گھر پر کچھ دیر کے لئے اکیلے ہوئے تھے جس کے بعد نامعلوم افراد گھر میں غالباً دیوار پھلانگ کرداخل ہوئے اور انہوں نے مولانا سمیع الحق کو چھریوں کے وارکرکے شہید کردیا، چاقو سے مولانا سمیع الحق پر متعدد وار کئے گئے ،مولانا حامد الحق نے کہا کہ میں خود بھی گھر میں موجود نہیں تھابلکہ نوشہرہ میں موجود تھا ،

بعد ازاں جب لوگ گھر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مولانا سمیع الحق خون میں لت پت پڑے ہوئے ہیں جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیاگیا۔مولانا سمیع الحق کی شہادت کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، مولانا سمیع الحق ایک عالمی شخصیت تھے اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنا ایک بڑا مقام رکھتے تھے ، اس بات پر سوال اُٹھایاجارہاہے کہ اتنی بڑی شخصیت کو گھر میں کیسے اکیلا چھوڑاگیا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ جب مولانا سمیع الحق پر حملہ کیاگیا تو اس وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا، واردات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی پلاننگ کے ساتھ یہ حملہ کیاگیا ہے ، حساس اداروں نے اس سلسلے میں تفتیش شروع کردی ہے اور جلد ہی مزید انکشافات کی توقع ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…