پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا سمیع الحق کی شہادت ،واقعہ پراسرار ہوگیا،اہم ترین شخصیت کو گھر میں اکیلا کیوں اور کیسے چھوڑ دیاگیا؟سنسنی خیز

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

انکشافاتراولپنڈی(نیوزڈیسک) اتنی بڑی شخصیت کو گھر میں کیسے اکیلا چھوڑاگیا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ جب مولانا سمیع الحق پر حملہ کیاگیا تو اس وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا، واردات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی پلاننگ کے ساتھ یہ حملہ کیاگیا ہے ، حساس اداروں نے اس سلسلے میں تفتیش شروع کردی ہے اور جلد ہی مزید انکشافات کی توقع ہے۔

مولانا حامد الحق نے کہا کہ میرے والد کی شہادت کے پیچھے بین الاقوامی طاقتیں ہی ہوسکتی ہیں انہی طاقتوں نے مولانا سمیع الحق کو شہید کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کو افغان حکومت کی جانب سے خطرات تھے۔جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں، مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا سمیع الحق پر گھر پر حملہ کیاگیا ، چاقو سے کئی وار کئے گئے، واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی کردیاگیا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیاجارہاتھا کہ وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ مولانا سمیع الحق پاکستان کے نامور علماء کرام میں شمار کئے جاتے تھے ان کی شہادت پاکستان کے لئے ایک عظیم نقصان قرار دی جارہی ہے۔مولانا حامد الحق نے کہا کہ مولانا سمیع الحق گھر پر کچھ دیر کے لئے اکیلے ہوئے تھے جس کے بعد نامعلوم افراد گھر میں غالباً دیوار پھلانگ کرداخل ہوئے اور انہوں نے مولانا سمیع الحق کو چھریوں کے وارکرکے شہید کردیا، چاقو سے مولانا سمیع الحق پر متعدد وار کئے گئے ،مولانا حامد الحق نے کہا کہ میں خود بھی گھر میں موجود نہیں تھابلکہ نوشہرہ میں موجود تھا ، بعد ازاں جب لوگ گھر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مولانا سمیع الحق خون میں لت پت پڑے ہوئے ہیں جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیاگیا۔مولانا سمیع الحق کی شہادت کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں،

مولانا سمیع الحق ایک عالمی شخصیت تھے اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنا ایک بڑا مقام رکھتے تھے ، اس بات پر سوال اُٹھایاجارہاہے کہ اتنی بڑی شخصیت کو گھر میں کیسے اکیلا چھوڑاگیا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ جب مولانا سمیع الحق پر حملہ کیاگیا تو اس وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا، واردات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی پلاننگ کے ساتھ یہ حملہ کیاگیا ہے ، حساس اداروں نے اس سلسلے میں تفتیش شروع کردی ہے اور جلد ہی مزید انکشافات کی توقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…