پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

قاتلوں کا اصل نشانہ مولاناسمیع الحق نہیں بلکہ کون تھا؟سلیم صافی نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا‎

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد معروف صحافی سلیم صافی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق اصل نشانہ نہیں تھے بلکہ قاتلوں کا اصل نشانہ پاکستان ہے جسے ملک دشمن عناصر کمزور اور غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت ملک کے لئے بہت بڑا سانحہ ہے

جو بڑے غلط اور نازک وقت میں رونما ہوا ہے، ان کے بیہمانہ قتل سے دینی حلقوں میں مزید بے چینی بڑھے گی۔ معروف صحافی نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ مولانا سمیع الحق کی کئی باتوں سے اختلاف رہا مگر اس کے باوجود ان سے محبت کا تعلق ہمیشہ قائم رہا، ان کے نظریات سے اختلاف کر سکتے تھے مگر مولانا سمیع الحق بہت اچھے انسان تھے اور مخالفین سے بھی بہت خلوص سے ملتے تھے، سلیم صافی نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام جب دو حصوں میں تقسیم ہوئی تو اس وقت بھی مولانا کے تمام دھڑوں سے تعلقات تھے، ان کے مدرسہ کا ملک کے بڑے دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور افغانستان کے سینکڑوں علما نے بھی ان سے تعلیم حاصل کی۔ معروف صحافی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی حلقوں میں ان کا ایک نمایاں مقام تھا، جس نے بھی مولانا سمیع الحق کو قتل کیا ہے وہ اسلام اور پاکستان کا دشمن ہے، انہوں نے کہا کہ وہ عموماً ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے، گو کہ لوگ مولانا سمیع الحق کو طالبان کا حامی سمجھتے تھے لیکن ان کی جانب سے کبھی بھی پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں کی حمایت نہیں کی گئی۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد معروف صحافی سلیم صافی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق اصل نشانہ نہیں تھے بلکہ قاتلوں کا اصل نشانہ پاکستان ہے جسے ملک دشمن عناصر کمزور اور غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…