جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’صدی کی ڈیل‘‘ سازش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : محمود عباس

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

رام اللہ(این این آئی)فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے امریکا کی طرف سے فلسطین ،اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ اعلان بالفور سمجھوتا گذر گیا مگر صدی کی ڈیل کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے صدر عباس نے رام اللہ میں منعقدہ مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا۔

اعلان بالفور ہی مسئلے کی جڑ ہے۔ اعلان بالفور ہوچکا مگر صدی کی ڈیل نہیں ہونے دی جائے گی۔خیال رہے کہ برطانوی وزیر خارجہ لارڈ ارتھر بلفورڈ نے 1917ء کو فلسطین میںیہودیوں کے قومی وطن کے قیام کی منظوری دی تھی جسے اعلان بالفورکا نام دیا گیا۔فلسطینی صدر نے مرکزی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس وقت تاریخ کے نازک مرحلے میں ہیں۔ آپ کو نئی ڈیل کے خطرات کے بارے میں باخبر رہنا ہوگا۔ امریکا ایک یا دو ماہ میں یہ منصوبہ پیش کردے گا،مگر ہم یہ باور کراتے ہیں کہ امریکا کے کسی سازشی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے امریکا کی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کیا، امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کیا گیا، فلسطینی پناہ گزینوں کے مالی حقوق غصب کیے۔ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 60 لاکھ سے کم کر کے صرف 40 ہزار کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے غزہ کی حکمران حماس پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ حماس دشمن کے افکار کے ساتھ مل کر غزہ کو الگ ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ غزہ اور غرب اردن کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کردیا جائے، حماس دشمن کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔صدر عباس نے کہا کہ القدس اور فلسطین برائے فروخت املاک نہیں۔ غزہ کی پٹی کے بغیر فلسطین نامکمل ہے۔ ہم عبوری سرحدوں پر مشتمل ریاست کی کسی تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ اور شہداء کے خاندانوں کی کفالیت جاری رکھی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…