بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ٓئی ٹی ایکسپورٹ12کروڑ ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے،انوشہ رحمن

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مسز انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی پارک کے قیام سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو نہ صرف مناسب جگہ دستیاب ہوگی بلکہ انہیں بینڈوتھ، بیک اپ پاور اور دیگر تمام سہولتیں ایک ہی چھت کے نیچے مہیا ہوسکیں گی جس سے ایک ایکو سسٹم تشکیل پائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں پاکستان میں پہلے اسٹیٹ آف دی آر ٹ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے حوالے سے آئے ہوئے کورین ایگزم بینک کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ممبران اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے حکام بھی موجود تھے جبکہ کورین وفد ڈائریکٹر جنرل منسٹری آف اسٹریٹجی اینڈ فنانس مسٹر سیونگ ہیوجن، ڈائریکٹر کورین ایگزم بینک مسٹر پارک سونگ ین و دیگر چار اراکین پر مشتمل تھا۔ علاوہ ازیں ملاقات سے قبل وفد کے اراکین نے اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کیلیے مختص جگہ کا دورہ بھی کیا۔
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے وفد سے ملاقات میں وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت انفارمشن ٹیکنالوجی کا ویڑن ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو بہترین انفرااسٹرکچرمہیا کیا جائے تاکہ وہ پاکستان میں موجود بہترین آئی ٹی ٹیلنٹ کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی پارک کے قیام سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو نہ صرف مناسب جگہ دستیاب ہوگی بلکہ انہیں بینڈوتھ، بیک اپ پاور اور دیگر تمام سہولتیںایک ہی چھت کے نیچے مہیا ہوسکیں گی جس سے ایک “ایکو سسٹم” تشکیل پائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کا آئی ٹی پارک اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اسی طرح کے آئی ٹی پارک لاہور اور کراچی میں بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
جس سلسلے میں زمین کے حصول کیلیے کوششیں اپنے حتمی مراحل میں ہیں۔ کورین ٹیم کو بتایا گیا کہ “ای۔ لانس” کے سروے کے مطابق پاکستان آئی ٹی مصنوعات کی ایکسپورٹ کے حوالے سے اور فری لانس ریونیو کے اعتبار سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے اور آئی ٹی ایکسپورٹ کی شرح میں پچھلے سال کی نسبت 35فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایم ڈی پی ایس ای بی نے کہا کہ حال ہی میں اسلام آباد اور پنڈی کے جڑواں شہروں میں موجود تین سو سے زائد آئی ٹی کمپنیوں کی طرف سے دفاتر کے قیام کیلیے ایک ملین مربع فٹ جگہ کی ڈیمانڈ سامنے آئی ہے جس سے آئی ٹی پارک کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ مجوزہ آئی ٹی پارک کے ذریعے ایکسپورٹ کے حجم کو 120 ملین ڈالر سالانہ تک بڑھایا جاسکتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل منسٹری آف اسٹریٹجی اینڈ فنانس مسٹر سیونگ ہیوجن کا کہنا تھا کہ اسے پاکستانی آئی ٹی کی صنعت اور اس کی استعداد کارکے متعلق جان کر بے حد خوشی ہوئی ہے اور ایگزم بینک اسی سال جولائی تک تجزیاتی مطالعہ کیلیے کورین کنسلٹنٹ کا تقرر کر دے گا پاکستان میں تعینات کورین سفیر مسٹر سونگ جونگ ہوان نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں کوریا اور پاکستان دونوں کے معاشی حالات تقریبًا ایک جیسے تھے لیکن پچھلے 50 سال میں کوریا نے محض ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے باعث بہترین معیشت قائم کی ہے۔
پاکستان میں آئی ٹی کے حوالے سے بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ٹیکنالوجی پارک اس ٹیلنٹ کو بروئے کار لاکر ایکسپورٹ کی شرع بڑھانے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔ کورین سفیر نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ویڑن ایکسلریٹڈڈیجٹائزیشن کی بھی بہت تعریف کی کیونکہ آئی ٹی پارک کا قیام اسی وڑن کے حصول کیلیے ایک کڑی ہے۔ کورین سفیر نے امید ظاہر کی کہ آئی ٹی پارک کے قیام سے دونوں ممالک کے دوستانہ باہمی تعلقات میں مزید پختگی آئیگی جوکہ ہر دو ممالک کیلیے دیرپا اور خوش آئند نتائج کا موجب بنے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…