ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

صوبائی معاملات کو اسلام آباد سے نہیں چلایا جا سکتا،اگر 18ترمیم کو رول بیک کیا گیا تو پھر کیا ہوگا؟پیپلزپارٹی کے اہم رہنما رضا ربانی نے خوفناک انتباہ کردیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہاہے کہ صوبائی معاملات کو اسلام آباد سے نہیں چلایا جا سکتا،18ویں ترمیم کو اکثریت کی بنیاد پربہتر کیا جا سکتا ہے لیکن رول بیک نہیں کیا جا سکتا۔ اگر 18ترمیم کو رول بیک کیا گیا تو نتائج انتہائی خطرناک ہونگے۔کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرمیاں رضا ربانی نے کہاکہ18 ویں ترمیم طویل جدوجہد کے بعد وجود میں آئی،

چھوٹے صوبے اس سے قبل احساس کمتری کاشکار تھے،بنیاد پاکستان صوبوں کی ڈیمانڈ سے شروع ہوئی اور یہ ڈیمانڈ بڑھتے بڑھتے پاکستان کے وجود میں آنے کی وجہ بنی قائد اعظم کے چودہ نکات میں بھی صوبوں کی خودمختاری کو اہمیت دی گئی،پاکستان کی جو حقیقت تھی اسے اسٹیبلشمنٹ نے تسلیم نہیں کیاجس نے صوبوں کی خودمختاری کی بات کی اسے غدار کہا گیا اورسیاست میں حقیقت مسلمہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی نے صوبوں کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کا وجود چھوٹے صوبوں کو انکا حق دلانے کے لئے ہوا تھا اٹھارویں ترمیم کے نکات کو مجیب کے چھ نکات کہا گیا،ملٹری اسٹیبلیشمنٹ نے کبھی بھی صوبائی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا۔صوبائی خودمختاری کی بات کرنے والون کو غدار قرار دیا گیا۔صوبائی خودمختاری کی بات کرنے والوں کو وفاق کے خلاف سمجھہ جانے لگا۔سول ملٹری بیروکریسی نے تہیہ کر لیا کہ اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ وفاقی اکائیوں کیلئے 9ماہ کی جدوجہد کے بعد 18 ترمیم اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔اگر 18 ترمیم نہ دیتے تو بلوچستان میں پھاڑوں پر بیٹھے لوگ واپس نہیں آتے اور نقصان ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم صحت اور خزنہ صوبائی مسائل ہیں۔ہم نے این ایف سی میں یہ قانون پاس کیا تھاکہ نیا این ایف سی پہلے سے کم نہیں ہوگا اورصوبوں کے حصے میں کٹوتی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ مارشل لا کے دوراں این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کئے ابھی تک این ایف سی ایوارڈ نہین دیا گیا۔وفاق کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔جب فاٹا کا کے پی کے مین انضمام ہوا تو کہا کہ 3 فیصد فاٹا کو بھی صوبوں کے حصے سے دیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…