جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے راستے کی مجبوری ختم،ایران، افغانستان اور بھارت باہم منسلک ہو گئے،بھارت اور افغانستان ٹرانزٹ راہداری تعاون پر مبنی ضابطہ مطابقت پر دستخط

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

نئی دہلی، کابل، تہران(آئی این پی)ایران، بھارت اور افغانستان سمندری راستے چاہ بہار کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہو گئے ہیں، گوادر بندرگاہ چین اور پاکستان بیچ اقتصادی راہداری اس رابطے کو مکمل کرے گی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران۔ بھارت اور افغانستان ٹرانزٹ راہداری تعاون پر مبنی ضابطہ مطابقت پر دستخط کردیے گئے ہیں۔

تہران کے ہوٹل میں منعقدہ کوآرڈینیشن اجلاس میں ایرانی سمندری و بندرگاہ امور کے ڈائریکٹرمنیجر محمد راستاد ، افغان ناب وزیر مواصلات امام الدین ویری ماچ اور بھارتی قائمقام وزیر خارجہ تیرو مرتی نے شرکت کی۔اس موقع پر محمد راستاد نے کہا کہ چابا ہار بندر گاہ کی وساطت سے ہم منافع بخش منڈیوں کی حیثیت حاصل کر سکتے ہیں اور اس راہداری کی وساطت سے دیگر ممالک کی دلچسپی کو بھی اپنی جانب کھینچ سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چاہ بہار ٹرانزٹ راہداری کو بحرِ ہند کے ساحلوں پر واقع ممالک ، وسطی ایشیا اور افغانستان سے ملایا گیا ہے جبکہ چین اور پاکستان کے بیچ گوادر اقتصادی راہداری اس رابطے کو مکمل کرے گی۔افغان نائب وزیر مواصلات نے بھی اس موقع پر بتایا کہ تینوں ممالک سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے معاملات میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں چاہ بہار راہداری سے کام کاج کے مواقع میں اضافہ ممکن ہے۔بھارتی نائب وزیر خارجہ مرتی نے بھی نقل و حمل امور میں مزید آسانیاں لانے کا ہدف بنانے کو زیر لب لاتے ہوئے کہا کہ ان تینوں ممالک کی موجودہ کوششیں انتہائی اہم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…