جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نبیلہ خاشقجی کے نام پر بنایا گیا بحری جہاز جو بعد میں ٹرمپ پرِنسز بن گیا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے ارب پتی بزنس مین عدنان خاشقجی نے اپنی بیٹی نبیلہ خاشقجی کے نام پر ایک یاٹ یعنی پْرتعیش بحری جہاز بنوایا تھا۔ بعد میں اس یاٹ کو موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو کروڑ 90 لاکھ ڈالرز میں خریدا تھا۔نبیلہ نامی یاٹ اٹلی کے ایک شپ یارڈ میں سنہ 1980 میں تیار کی گئی تھی۔ یہ اپنے وقت کی سب سے بڑی یاٹ تھی اور آج بھی اسے بڑی بڑی

یاٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 281 فٹ ہے، تین منزلہ ہے اور اس کے پانچ ڈیکس ہیں۔ اس میں ایک چھوٹا سا سینما، ایک جکوزی،دو سونا رومز، ایک سومنگ پول، اور چار کمروں کا ایک سویٹ ہے جس میں سونے کے سِنک لگے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ اس یاٹ میں 11 گیسٹ رومز، تین کمروں پر ایک ہسپتال، سٹاف کے لیے 52 کوارٹرز جبکہ اس کے ڈیکس بلٹ پروف ہیں، اس میں خفیہ راستہ بھی بنا ہوا ہے۔ یاٹ میں کمیونیکیشن کے لیے 256 ٹیلیفون لگے ہوئے تھے۔ نبیلہ یاٹ کی رفتار 18 سے 20 ناٹ فی کلومیٹر ہے اور یہ 3000 ہارس پاور ڈیزل انجن سے چلتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس یاٹ کو بنوانے میں ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالرز لگے تھے۔ عدنان خاشقجی نے اسے بنوانے کے معاہدے میں اتنی سخت شرائط لکھوائی تھیں کہ اٹلی کی کمپنی انھیں پورا کرتے کرتے دیوالیہ ہو گئی۔ اس جہاز پر جیمز بانڈ کی سیریز کی ایک فلم ’نیور سے نیور اگین‘ کی شوٹنگ بھی ہوئی تھی۔جب عدنان خاشقجی پر 1987 میں مالیاتی طور پر بْرا وقت آیا تو اْنھوں نے نبیلہ یاٹ کو برونائی کے سلطان کو قرضے کی ادائیگی کے عوض دے دیا۔ سلطان نے بعد میں یہی یاٹ امریکہ کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو کروڑ 90 لاکھ ڈالرز میں فروخت کی۔ مسٹر ٹرمپ نے یاٹ کا نام نبیلہ سے بدل کر ’ٹرمپ پرنسز‘ رکھا۔مسٹر ٹرمپ نے اس یاٹ کی از سرِنو تزئین پر 80 لاکھ ڈالرز خرچ کر اس کو مزید جدید بنا دیا۔ لیکن جب وہ نوے کی دہائی میں خود دیوالیہ ہوئے تو انھوں نے اس یاٹ کو فروخت کرتے وقت ساڑھے 11 کروڑ ڈالرز قیمت کا مطالبہ کیا، لیکن اس یاٹ کو خریدنے والے سعودی شہزادے، ولید بن طلال نے بعد میں کہا کہ انھوں نے اس کے لیے ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…