ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

سیاستدان منشیات کے دھندے میں ملوث، ہیروئن بیچنے والا نواز شریف کے جلسوں کے اخراجات برداشت کرتا تھا، پی ٹی آئی کےکتنےسیاستدانوں بھی مکروہ دھندے میں ملوث نکلے، معروف صحافی ہارون الرشید کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ انصاف کی تاخیر اور عدالتی نظام کی پیچیدگیوں کے سب ہی  ذمہ دار ہیں صرف عدلیہ میں خرابی نہیں ہے، پولیس بھی ذمہ دار ہے، حکومت میں خرابی ہے۔ اس موقع پر ہارون الرشید نے روزنامہ خبر یں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کی کتاب میں درج

ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ، ضیا شاہد کی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک صاحب نواز شریف صاحب کے جلسوں کے اخراجات برداشت کرتے تھے تو میں نے نواز شریف کو بتایا کہ یہ شخص تو ہیروئن کا کاروبار کرتا ہے اور 5فیصد حصہ لیتے ہیں ٹرک پنجاب کی حدود سے گزارنے کا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ کچھ بھی کرے لیکن جلسے کیلئے وہ 50لاکھ روپیہ دیتا ہے اور جہاں بھی جلسہ کرنا ہو تو ایک جلسہ پر تین کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہارون الرشید کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف حکمرانوں تک کا نہیں بلکہ زرداری صاحب کا بھی کیا معاملہ تھا اور تحریک انصاف میں بھی ایسے کئی لوگ ہیں اور میں ان 6سیاستدانوں کے نام جانتا ہوں جن پر کبھی کیس نہیں چلا جو منشیات کے دھندے میں ملوث تھے، ناکافی ثبوت کی وجہ سے اے این ایف والے خاموش رہے۔ معروف انگریزی اخبار میں فرنٹ پیج پر سٹوری چھپی تھی آج سے پندرہ سال پہلے نواز شریف کے ایک کزن کے بارے میں اور فرنٹ پیج پر ثبوت اور دعوے کے ساتھ کہ وہ منشیات بیچتا ہے، کسی کے کان میں جوں نہیں رینگی اس زمانے میں کیونکہ اس دور میں اتنی سختی نہیں تھی۔ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اخبارات میں بھی ایسے لوگ ہیں کیا اخبارات میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو سیاسی پارٹیوں سے یا حکمرانوں سے یا صوبائی اور مرکزی حکومتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، پیسے لیتے ہیں،

مراعات لیتے ہیں اور ان کی وکالت کرتے ہیں یا پھر اپوزیشن سے فائدے اٹھاتے ہیں اور حکومت پر ناروا تنقید کرتے ہیں۔ کیا این جی اوز میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو باہر سے پیسے لیتے ہیں اور فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ فوج پر بھی تنقیدہوتی ہے اور بعض اوقات ضروری ہوتی ہے، فوج کوئی فرشتوں کی تو نہیں ہے۔ خرابی ہر جگہ ہے اور اصلاح کا آغاز بھی ہر جگہ سے ہو گا، اصلاح کیلئے ریاضت تو چاہئے مگر حکمت بھی ضروری ہے، منصوبہ بندی بھی چاہئے۔ ایک اچھا تھانیدار آجائے تو تھانے کی حدود میں صورتحال بدل جاتی ہے

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…